aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khemo.n"
رابعہ پنہاں
1906 - 1972
شاعر
زاہدہ خاتون زاہدہ
1915 - 1982
سمیعہ نسیم
جمیلہ خاتون تسنیم
زاہدہ خاتون شروانیا
1894 - 1922
زرینہ زریں
born.1968
ناہید اختر
اے۔ آر۔ خاتون
1900 - 1965
مصنف
زبیدہ خاتون صدیقی
1927 - 1980
نادرہ خاتون
نوشابہ خاتون
born.1900
جمیلہ خاتون
محمودہ خاتون
born.1913
ڈاکٹر سیدہ طیبہ خاتون، پیلہ تالاب، رام پور
ناشر
افسانہ خاتون
نظر جھکائے ہوئے اور بدن چرائے ہوئےخود اپنے قدموں کی آہٹ سے جھینپتی ڈرتی
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طنابچوتھا مشیر
خیموں کا اک جنگل دیکھااس جنگل میں منگل دیکھا
کہاں سے آئے تھے تیر ہم پر، طنابیں خیموں کی کس نے کاٹیںگریز کرتی ہوائیں ہم کو تمام باتیں بتا چکی ہیں
ہم نے جلتے ہوئے خیموں کی وہ شامیں رکھ دیںشعر میں لفظ رکھے لفظ میں چیخیں رکھ دیں
خیموں کے شہر میں
صادقہ ذکی
خواتین کی تحریریں
سلگتے خیموں کا شہر
فخرالدین عارفی
افسانہ
جلتے خیموں کی چیخ
احمد حسین شمس
خیمہ جاں
محسن نقوی
مجموعہ
قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ
آغا افتخار حسین
تاریخ
ایک قطرہ خون
عصمت چغتائی
تاریخی
انشائے داغ
احسن مارہروی
خطوط
اصغر گونڈوی شخصیت اور فن
شاعری تنقید
فلسفۂ تاریخ
غلام محمد احمد
عالمی تاریخ
حبہ خاتون
امین کامل
انتخاب
فاکھہ
خون کے آنسو
سید اشفاق حسین
اسلامیات
دوسری جنگ عظیم اور ایشیائی قوموں پر اس کا اثر
ڈی ایفیموف
شمارہ نمبر۔007
فرید فاروقی
Jan 2014خاتون مشرق
کتب اور کتب خانوں کی تاریخ
اشرف علی
اپنے ہی خیموں پر جو شب خون نہ مارےایسا کوئی لشکر نہیں دیکھا بہت دنوں سے
تھا خیموں میں کہرام جو جل رہے تھےہر ایک سمت جیسے دھواں ہی دھواں تھا
جان لینے کا ویسا سلیقہ ابھی لشکر دشمناں میں کسی کو نہیںآؤ اب اپنے خیموں میں واپس چلیں دوستوں سے ملاقات کرتے رہیں
میری ڈیوٹی تھی خیموں کی حفاظتمگر میں آب داری کر رہا تھا
طنابیں ٹوٹ کے بکھریں تمام خیموں کیہوا کے رخ کا لگایا گیا حساب غلط
عشق کیا وفا کیا ہے وقت کیا خدا کیا ہےان لطیف خیموں کے سائے کیوں گھنیرے ہیں
اجڑے خیموں کا سوگوار ہوں میںمیں عزادار کربلا کا ہوں
اکھڑ گئی ہیں طنابیں ستم کے خیموں کیالٹ گئی ہے بساط حسب نسب کب سے
خیموں سے تا فرات جو دریائے خوں ہے یہاس پر سے مصلحت کا کوئی پل نہ جائے گا
یہ بات خیموں کے جلتے دیے بھی جانتے تھےکہ ہم کو بجھنا ہے ترتیب وار آخری بار
اپنے خیموں میں لیٹےاپنے آپ سے باتیں کرتے
خانہ بدوش جاگےخیموں میں اڑ رہی تھیں
خاموشی کے خیموں کواور ہونٹوں کی شاخوں پر
دشمنوں کے خیموں میں کھل کے جائیے صاحبہاں مگر بچے رہئے خوش ادا حسینوں سے
جب شام ڈھلے ہجر ترا مجھ سے ملا تھامیں اشکوں کے جلتے ہوئے خیموں میں کھڑا تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books