aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kuchh"
سر خوش
مصنف
گوری چگ
شاعر
ادارہ محفل خوش رنگ، ہاوڑہ
ناشر
خوش دل خان پوری
مدیر
پنڈت خوشحال رائے
امین الدولہ ابوالفرج ابن القف المسیحی
محمد حسین خوشنویس
خوش دلان پبلی کیشنز، بنگلور
کس پرکاشن، لکھنؤ
ادارہ فروغ علم، کوچہ چیلان
خوشنویش نتھو رام، لاہور
خوش دلان جودھپور (راجستھان)
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھتو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ
میری ہر بات بے اثر ہی رہینقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیںمیرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
مرزا غالب نے کئی نسلوں کو متسصر کیا ہے - شاعر انکے مضامین، اسلوب اور زبان سے کافی کچھ سیکھا - یہی وجہ ہے کہ شاعروں نے انکی زمینوں پر غزلیں کہی اور انھیں خراج پیش کیا - ہم یہاں چند غالب کی ہم زمین غزلیں شایع کر رہے ہیں - پڑھیں اور لطف لیں -
कुछ کُچھ
ذرا ؛ کسی قدر ؛ ٹک ؛ تھوڑا سا ؛ قدرے ؛ معمولی.
سنسکرت
कूच کُوچ
روانگی، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا عمل، سفر
فارسی
क्या कुछ کیا کُچْھ
بہت کچھ، کس قدر، کیا کیا، کتنا
कुछ् हो کُچْھ ہو
اچھا ہو یا برا کوئی پروا نہیں
کھویا ہوا سا کچھ
ندا فاضلی
مجموعہ
اردو غزل کے کچھ اہم ستون
اظہار احمد
غزل تنقید
کچھ موذی امراض اور ان کا علاج
نامعلوم مصنف
طب
کچھ ہندو مت کے بارے میں
خدا بخش لائبریری، پٹنہ
مقالات/مضامین
کچھ ابوالکلام آزاد کے بارے میں
مالک رام
یہ صورت گر کچھ خوابوں کے
طاہر مسعود
انٹرویو
ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی
مرزا فرحت اللہ بیگ
نثر
مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں
ابوالحسن علی ندوی
اخلاقیات
رشید حسن خاں
جاوید رحمانی
مرتبہ
کچھ یادیں کچھ آنسو
اے۔ حمید
افسانہ
غیر افسانوی ادب
پریم چند اور تصانیف پریم چند
مانک ٹالا
کچھ پرانے خطوط
جواہر لعل نہرو
خط
سید احتشام حسین: کچھ یادیں، کچھ جائزے
پروفیسر نذیر احمد
کچھ بچا لائے ہیں
اختر عثمان
انتخاب
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کیبڑی آرزو تھی ملاقات کی
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیاوہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھےمیری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہےآج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
ہجر ہو یا وصال ہو کچھ ہوہم ہیں اور اس کی یادگاری ہے
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گییوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
بیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تمجب بس میں کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہوکہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے
حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئیشوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی
تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرااور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئےاس کے بعد آئے جو عذاب آئے
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تراکچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books