aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lauTe.n"
محمد اقبال لون
مصنف
تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیںسلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے
کاش لوٹیں مرے پاپا بھی کھلونے لے کرکاش پھر سے مرے ہاتھوں میں خزانہ آئے
شام گئے یہ منظر ہم نے ملکوں ملکوں دیکھا ہےگھر لوٹیں بوجھل قدموں سے بجھے ہوئے انگارے لوگ
یہاں وہ غزلیں دی جا رہی ہیں جسمیں جسے اکثر ریڈیو پر سنا جاتا تھا
یہ کلیکشن مرزا غالب کی ان لازوال غزلوں پر مشتمل ہے، جنہیں جگجیت سنگھ نے اپنی دل نشین اور روح کو چھو لینے والی آواز میں گایا ہے۔ ان منتخب غزلوں میں عشق کی شدت، ہجر کا کرب، اور زندگی کی گہرائیوں سے پھوٹتی ہوئی فکر کی وہ لطیف پرتیں شامل ہیں جو دل و دماغ کو یکساں طور پر متاثر کرتی ہیں۔ یہ انتخاب سننے والوں کو کلاسیکی اردو شاعری کے جمال اور غزل گائیکی کی لطافت سے آشنا کرتا ہے — ایک ایسا امتزاج جو دل کو چھو جائے، اور دیر تک ذہن میں گونجتا رہے۔ آیئے، اس نایاب انتخاب کو پڑھیے، سنیے، غزل اور آواز کی اس خوبصورت ہم آہنگی میں ڈوب جائیے۔
علامہ اقبال کی شخصیت ایک عہد ساز شاعر اور فلسفی کے طور پر جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ اس کلیکشن میں ان کی کچھ غزلیں شامل ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ آپ ان غزلوں کو ضیا محی الدین کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں۔
बातें باتیں
بات (رک) کی جمع مغیرہ حالت میں.
लड़ें لَڑَیں
لڑنا (رک) کا فعل مضارع صیغۂ جمع غائب و جمع متکلم ؛ تراکیب میں مستعمل
लातें لاتیں
لات کی جمع، تراکیب میں مستعمل، ٹان٘گیں
लबें لَبیں
دونوں ہونٹ، جیسے لبیں بند ہونا
لوح جنوں
ساغر صدیقی
مجموعہ
لوح ایام
مختار مسعود
یادداشت
ابابیلیں لوٹ آئیں گی
ترنم ریاض
کہانیاں/ افسانے
بہاریں لوٹ آئیں
اشفاق احمد
افسانہ
لوح خاک
احمد ندیم قاسمی
مرے ہوئے آدمی کی لالٹین
صدیق عالم
چینی کی انگوٹھی اور لوٹے کا راز
مرزا عظیم بیگ چغتائی
کالیگرافی / خطاطی
کہاں سے لاؤں انہیں
مظہر محمود شیرانی
خاکے/ قلمی چہرے
لوح محفوظ
محمد محفوظ الحق
تصوف
لوح آب رواں
فاروق ارگلی
لالٹین
محمد خالد اختر
تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے؟
اقبال مہدی
فیض تبسم تونسوی
لوح خیال
ظہیر عباس سائر
مثنوی لوح محفوظ
مثنوی
ماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلاماب تو لٹیرے تجھ کو لوٹیں
بلاتا رہتا ہے جنگل ہمیں بہانوں سےسنیں جو اس کی تو شاید نہ پھر کبھی لوٹیں
یہ بھی ممکن ہے کہ اڑ جائیں تو لوٹیں نہ کبھیجتنے بچے ہیں وہ پر دار نظر آتے ہیں
گھر کے مکین خیر سے لوٹیں نہ جب تلکخدشات گھیرے رہتے ہیں دل کو عجیب سے
پیاس کے ماروں کا ہنگامہ نہ پوچھمیکدہ لوٹیں نہ تشنہ کام پھر
جس میں بہادر نڈر شاہ زادےسفر سے سرفراز لوٹیں
نا ممکن ہے واپس لوٹیں خالی ہاتھچاند پکڑنے لیکن گھر سے نکلیں تو
ٹکرا کر چاروں سمتوں سے لوٹیں زخمی ہو ہو کر
پنچھی لوٹیں شام کو جب ان کے سواگت کے لیےڈالیوں کا سر جھکانا مجھ کو بھاتا تھا بہت
دل اپنا نہ چاہا کہ ہم گھر کو لوٹیںنہ یہ آرزو تھی کہ بستر میں پہنچیں
چلو پھر سے وہاں لوٹیںجہاں گلیاں ہماری منتظر ہوں
اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سےایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہےجو لوح ازل میں لکھا ہے
دم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاک
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books