aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lutf-e-be-sabab"
کبھی میں جرأت اظہار مدعا تو کروںکوئی جواز تو ہو لطف بے سبب کے لئے
نگاہ شوق کو پھر لطف بے حساب ملےخدا کرے کہ تجھے دائمی شباب ملے
کیا ہے مری خطا سبب بے رخی ہے کیامیرے جنون شوق میں کوئی کمی ہے کیا
بے لطف یار ہم کو کچھ آسرا نہیں ہےسو کوئی دن جو ہے تو پھر سالہا نہیں ہے
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
جواب با صواب
نامعلوم مصنف
اسلامیات
آتش بے نام
مظفرالدین خاں صاحب
غزل
وگیان مالا
ماسٹر رام چندر
شمارہ نمبر-004
پرما نند آہوجہ ٓنند
Apr 1944لطف شباب
شمارہ نمبر-010
Oct 1944لطف شباب
شمارہ نمبر-012
Dec 1943لطف شباب
شمارہ نمبر-008
Aug 1944لطف شباب
شمارہ نمبر-007
Jul 1944لطف شباب
شمارہ نمبر-009
Sep 1944لطف شباب
شمارہ نمبر-006
Jun 1944لطف شباب
شمارہ نمبر-005
May 1944لطف شباب
شمارہ نمبر-003
شمارہ نمبر-001
Jan 1944لطف شباب
شمارہ نمبر-002
Feb 1944لطف شباب
لطف زندگی
درگا پرساد
طب یونانی
تمہاری یاد آئے بے سبب کیوںغزل کو تو بہانہ چاہیے تھا
ترے وصال کی کب آرزو رہی دل کوکہ ہم نے چاہا تجھے شوق بے سبب کے لیے
رہتی ہے اس نگاہ کافر کیرنجش بے سبب سے آنکھ لگی
آنکھوں کا تو کام ہی ہے رونایہ گریۂ بے سبب ہے پیارے
یوں دیکھتے ہیں جیسے ادھر دیکھتے نہیںاس لطف بے غرض کی نزاکت نہ پوچھئے
تلخ اس کا تو شہد و شکر ہے ذوق میں ہم ناکاموں کےلوگوں میں لیکن پوچ کہا یہ لطف بے ہنگام کیا
جو مزا ہے تشنگی میں ہے جو لطف بے قراریتجھے کیا بتاؤں ہمدم ترا دل جلا نہیں ہے
روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہےکہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا
اس کو انعام خودی اور اس پر لطف بے خودیوہ کرم کرتے ہیں ظرف اہل عرفاں دیکھ کر
بار احساں سے مر نہ جاؤں کہیںہر نفس لطف بے شمار نہ کر
سرمایۂ حیات ہے وہ لطف بے پناہبزم جہاں میں دل سے لگایا گیا مجھے
یہ بے سبب نہیں آئے ہیں آنکھ میں آنسوخوشی کا لمحہ کوئی یاد آ گیا ہوگا
اس لئے زیر فلک بے سبب آزار ہے حسنجائے تو جائے کہاں عشق کہ سرکار ہے حسن
جفائے بے سبب کم ہے کہ جور ناروا کم ہےتری بے داد اے ظالم نہ ہونے پر بھی کیا کم ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books