aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "manzila"
منزل لوہاٹھیری
born.1931
مصنف
منزل نقشبندیہ، لاہور
ناشر
دفتر حجاج منزل جدہ
مدیر
مرضیہ عارف
نیلسن منڈیلا
سید مرضیہ شمسی زائرہ نقوی
ثقفی منزل، گورکھپور
صغرا منزل، حیدرآباد
اشاعت منزل اردو گلی، حیدرآباد
قادریہ رضویہ ایجوکیشنل سوسائٹی دادا پیر منزل، کرناٹک
دارالاشاعت حسن منزل، آگرہ
حیات الہ بک ڈپو حیات منزل، آلہ آباد
عباس منزل لائبریر، الہ آباد
سرفراز منزل، حیدرآباد
ادارہ باب العلوم مزمل منزل، نئی دہلی
یہاں تک آئے ہیں طے ہم دو منزلہ کر کےتمہاری بزم میں پہنچے ہیں آج کل کے چلے
یہ چھوٹی چھوٹی سی خواہشیں تھیںکسی بڑے شہر کی کئی منزلہ عمارت سے گر پڑیں ہیں
زمیں کا رقص پیہم سرد لوہے کی نکیلی کیل، زنجیر کشش، شانےاور اک نو منزلہ بلڈنگ
ہزار دل ہے ترا مشرق مہ و خورشیدغبار منزل جاناں نہیں تو کچھ بھی نہیں
نگاہوں کی بکھرتی ریت میں تعمیر ہوتے باربرسہ منزلہ اشجار کے پیچھے لرزتا ٹرام کا لوہا
منزل کی تلاش وجستجو اور منزل کو پا لینے کی خواہش ایک بنیادی انسانی خواہش ہے ۔ اسی کی تکمیل میں انسان ایک مسلسل اور کڑے سفر میں سرگرداں ہے لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ مل جانے والی منزل بھی آخری منزل نہیں ہوتی ۔ ایک منزل کے بعد نئی منزل تک پہنچنے کی آرزو اور ایک نئے سفر کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ منزل اور سفر کے حوالے سے اور بہت ساری حیران کر دینے والی صورتیں ہمارے اس انتخاب میں موجود ہیں ۔
मंज़िला مَنزِلا
رک : منزلہ ، منزل والا ، درجے یا چھت والا (جیسے : دو منزلہ ، تین منزلہ مکان) ۔
मंज़िला مَنزِلَہ
منزل کا، درجوں کا یا چھت والا (جیسے دو منزلہ ، سہ منزلہ مکان)
मंज़िल مَنزِل
اُترنے کی جگہ ، نازل ہونے کا مقام ؛ (مجازاً) ٹھہرنے کی جگہ ، پڑاؤ ، مرحلہ
عربی
मंज़िली مَنزِلی
رک : منزلہ ، درجوں ، چھتوں والا
آپ مسافر آپ ہی منزل
مومن اقبال عثمان
اشعار
سیر المنازل
مرزا سنگین بیگ
تاریخ
دوسری منزل
امرتا پریتم
ناول
آزادی کی منزل تک
جواہر لعل نہرو
ہندوستانی تاریخ
میلا آنچل
پھنیشور ناتھ رینو
اصلاحی و اخلاقی
گمنام منزل
اگاتھا کرسٹی
منزل شب
مختار صدیقی
مجموعہ
منزل کی تلاش
میکسم گورکی
سوانحی
طلسمات منازل قمر
سید ابو الحسن
اسلامیات
اردو تنقید ۔ چند منزلیں
عزیز ابن الحسن
تنقید
منزل بہ منزل
مبارک علی
انسان کی منزل
مولانا وحیدالدین خاں
سامراج
ابن حسن
دیگر
چراغ منزل
دواکر راہی
شاعری
صد منزلہ وہ قصر انا ڈھیر ہو گیااحباب پل صراط کے راہی سے خوش ہوئے
خودی کو لے گئی اتنی بلندی پر زبردستیمکاں سہ منزلہ بنوا لیا دور گرانی میں
زمیں پر میں مزے سے جی رہا ہوںمکاں میرا کہاں نو منزلہ ہے
جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہےآنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
ہم اگر منزلیں نہ بن پائےمنزلوں تک کا راستا ہو جائیں
کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہمنزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگرلوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزلہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزلکوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں
حیات و موت کے پر ہول خارزاروں سےنہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغ
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہینہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیںراستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو
اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیفسخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books