aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "masakne"
مینو مسانی
مصنف
آر۔ پی۔ مسانی
ایس معشوق احمد
born.1992
شاعر
پیناز مسانی
born.1981
فن کار
تھک گئی رات مسکنے لگا غازہ کا فسوںسرد پڑنے لگیں گردن میں حمائل بانہیں
نرم ریشم کی طرح بنی خامشیجا بہ جا پھر مسکنے لگی
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھتو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔتجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پرواز
मसाने مَثانے
مثانہ (رک) کی جمع نیز مغیرہ حالت ، تراکیب میں مستعمل
massacre massacre
قَتْلِ عام
मसकना مَسَکْنا
۱۔ اپنی جگہ سے ہلنا ، حرکت کرنا ، جنبش کرنا ۔
سنسکرت
चोली मसकना چولی مَسَکْنا
چولی کا پھٹ جانا یا چاک ہوجانا
مسئلئہ فلسطین
ایڈورڈ سعید
اقبال اور مسئلۂ تعلیم
محمد احمد خاں
تنقید
اقبال اور مسلک تصوف
ابواللیث صدیقی
اقبالیات تنقید
میر تقی میر کے ادبی معرکے
محمد یعقوب
شاعری تنقید
مہکتے پھول نعت رسول
روشن بستوی
نعت
اسلام میں مسئلہ حجاب
شہید مرتضیٰ مطہری
اسلامیات
مکمل ومدلل مسائل امامت
محمد رفعت قاسمی
مسئلہ وحدۃ الوجود اور اقبال
ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم
مسئلہ خلافت و جزیرۂ عرب
ابوالکلام آزاد
دیگر
مسلک ارباب حق
شاہ وجیہ الدین احمد خان
سبع مثانی
مرزا سلامت علی دبیر
مرثیہ
مکھانے کی کھیر
ذکیہ مشہدی
کہانیاں/ افسانے
زبان و مسائل زبان
عبدالغفار شکیل
مارکسزم اور مسئلہ قومیت
استالین
ترجمہ نزہۃ الخواطر و بہجۃ المسامع والنواظر
عبد الحئی حسنی بریلوی
تذکرہ
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترےاے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
کیا کہیں پھر کوئی بستی اجڑیلوگ کیوں جشن منانے آئے
خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میںچڑھ گیا زہر گل مسلتے ہی
ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیںان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں
تجھے ہے مشق ستم کا ملال ویسے ہیہماری جان تھی جاں پر وبال ویسے ہی
شدت کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتارمیں کہ خود اپنے مذاق طرب آگیں کا شکار
گنگناتے ہوئے اور آ کبھی ان سینوں میںتیری خاطر جو مہکتے ہیں شوالوں کی طرح
مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا
طالبؔ کو یہ کیا علم، کرم ہے کہ ستم ہےجانے کے لیے روٹھ، منانے کے لیے آ
مذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوج
کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہوکہ روٹھتے ہو کبھی اور منانے لگتے ہو
ہم پہ ہی ختم نہیں مسلک شوریدہ سریچاک دل اور بھی ہیں چاک قبا اور بھی ہیں
تلواریں بھی چلیں تو نہیں مارنے کے دمامت پہ اپنے سر کو تصدق کریں گے ہم
اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہ سائی سےتو سنگ آستان کعبہ جا ملتا جبینوں میں
تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاںتمنا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books