aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "masarrat-e-paigaam-e-yaar"
ادارۂ پیغام صحت، لاہور
ناشر
تنظیم پیغام اسلام مباركپور
ادارہ رہبر عالم کا پیغام دعوت، دہلی
ادارۂ پیغام القرآن، لاہور
ادارہ پرچم ہند، دہلی
مکتبۂ شہر یار، کراچی
ادارہ اخوت و مساوات، پشاور
مسرت زمانی ابن فرید
مصنف
مجلس انتظام پائیگاہ خاص
مدیر
سازمان مدارک فرہنگی انقلاب اسلامی
مدرسۃ الاصلاح سرائے میر، اعظم گڑھ
گزرا اسدؔ مسرت پیغام یار سےقاصد پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے
گیا شباب نہ پیغام وصل یار آیاجلا دو کاٹ کے اس نخل میں نہ بار آیا
پیغام لطف خاص سنانا بسنت کادریائے فیض عام بہانا بسنت کا
پیغام حیات جاوداں تھاہر نغمۂ کرشن بانسری کا
پھر ستاروں نے پیغام رفعت دیااور خوابوں کے جھونکے
نئے سال کی آمد کو لوگ ایک جشن کے طور پر مناتے ہیں ۔ یہ ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کو استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔ یہ زندگی میں وہ واحد لمحات ہوتے ہیں جب انسان زندگی کے گزرنے اور فنا کی طرف بڑھنے کے احساس کو بھول کر ایک لمحاتی سرشاری میں محو ہوجاتا ہے۔ نئے سال کی آمد سے وابستہ اور بھی کئی فکری اور جذباتی رویے ہیں ، ہمارا یہ انتخاب ان سب پر مشتمل ہے ۔
یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔
نئے سال پر 20 منتخب شعر
پیغام حفظ وطن
قاضی عبدالقادر فیاض بلگوڈی
غزل
پیغام فکر و عمل
شمس الزماں
اسلامیات
پیغام صدق وصفا
محمد عبدالحی
پیغام عمل
شاعری
پیغام حق
سید محمد شاہ
پیغام وطن
عاصی رامپوری
شمارہ نمبر-011
محمد عبید الرحمٰن
Nov 2015پیغام ارب
شمارہ نمبر- 005
May 2016پیغام ارب
پیغام آزادی
لوکمانیہ بھگوان تلک
ترجمہ
پیغام عید
محمد مختار صدیقی
027
طارق انور مصباحی
Dec 2017پیغام ثقلین
نامعلوم مصنف
تہذیبی وثقافتی تاریخ
اسلام اور پیغام امن
مولانا محمد اعجاز احمد
ذکر یار
غلام محمد عمر خاں
شمارہ نمبر-001
رحمت اللہ صدیقی
Jul 1996پیغام رضا
کوئی مسرت لذت مجھے نہ درد کا غممری تو زیست ہی مستانہ وار گزری ہے
اپنا انداز زیست ہے پیغامؔیہ تماشے تھے ناگزیر نہ تھے
ابھی یہ زخم مسرت ہے ناشگفتہ ساچھڑک دو میرے کچھ آنسو ہنسی کے چہرے پر
مزاج یار تجھے کیوں وہ اعتبار تھا شاقیہ آئے دن کا تلون جسے مٹا کے رہا
ہے ذکر یار کیوں شب زنداں سے دور دوراے ہم نشیں یہ طرز غزل کا کبھی نہ تھا
ہیں ناوک دل دوز مرے یار کے تیوراک بار وہ سب تیر چلا کیوں نہیں دیتا
ہر بار کھینچ لائی ہمیں غیرت جنوںسو بار یوں تو ہم بھی در یار تک گئے
دل پکارا پھنس کے کوئے یار میںروک رکھا ہے مجھے گل زار میں
چلتے ہیں کوئے یار میں ہے وقت امتحاںہمت نہ ہارنا دل بیمار دیکھنا
خیال یار غم روزگار فکر معاشہم ایک جان کو کتنے عذاب رکھتے ہیں
اے چشم یار تیری عنایت کا شکریہوہ درد دل دیا ہے کہ جس کی دوا نہ ہو
فراق یار میں میرا دل مضطر نہ ٹھہرے گاتمہیں سوچو سکوں کو طائر بسمل سے کیا نسبت
ملتا نہیں کہیں دہن یار ہے اناجفاقوں سے جسم ہے کمر یار آج کل
خیال یار کیوں کر آ گیا طوفان گریہ میںخدا معلوم کس شے کا بنایا پل سمندر میں
جمال یار سے روشن ہوئی مری دنیاوہ چمکی دل میں کرن ماہتاب سے پہلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books