aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mastabe"
مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی
ناشر
مستان کاشف
born.1944
شاعر
مکتبہ پیام تعلیم، نئی دہلی
مدیر
مکتبۂ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی
مکتبہ الحسنات، رامپور یو۔پی۔
عزیز المطابع، حیدرآباد
مکتبہ اردو ادب، جموں کشمیر
مکتبہ جماعت اسلامی ہند، دہلی
مکتبہ احمدیہ، قادیان
مطبع افسرالمطابع، حیدرآباد
شمس المطابع، حیدرآباد
مکتبہ ابراہیمیہ، حیدرآباد
مکتبۂ ابراہیمیہ امداد باہمی، حیدرآباد
مطبع شوکت المطابع، میرٹھ
جہاں کے مصطبے میں مست طافح ہی نظر آئےنہ تھا اس دور میں آیا جسے ہشیار کہتے ہیں
مستی میں خوب گزرتی ہے کہ غفلت ہے ہمیںمشکل اس مصطبے میں کام ہے ہوشیاروں کو
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیامنصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا
کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیےمقتل شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھااس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے
मताबे' مَطابِع
مطبع کی جمع، بہت سے مطبع یا چھاپے خانے
عربی
आज़ादी-मताबे' آزادی مطابع
حکومت کی طرف سے نگرانی کے بغیر جو کچھ چاہنا چھاپنا
عربی, فارسی
पल्ले मर्तबे का پَلّے مَرْتَبے کا
رک: پلے سرے کا.
mastaba mastaba
{عربی} مَصطَبَہ
مستانہ جوگی
صوفی لچھمن پرشاد
مقتل گل
محمد عبد اللہ قریشی
مجموعہ
مطب حمید
محمد شجاع الدین حسین ہمدانی
طب
مقتل ابی مخنف و قیام مختار
ادبی مخنف لوط بن یحیٰ
اسلامیات
مہتاب داغ مع ضمیمہ یادگار داغ
داغؔ دہلوی
غزل
فقہ عمر
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ
احسان اللہ خاں
اردو ادب میں مولانا ابوالکلام آزاد کا حصہ اور مرتبہ
شرافت حسین مرزا
تحقیق
اقبال اور مسلک تصوف
ابواللیث صدیقی
اقبالیات تنقید
دیوان مہتاب داغ
دیوان
تاریخ مشرب شطار
ڈاکٹر فضیل احمد
تذکرہ
مشہد عشق
عامر سہیل
گل بکاؤلی
منشی نہال چند لاہوری
ترجمہ
مسند امام اعظم ابوحنیفہ
ابو حنیفہ
مولانا شبلی کا مرتبہ اردو ادب میں
عبداللطیف اعظمی
مشام جاں میں میرے آشتی مندانہ آتی ہوجدائی میں بلا کا التفات محرمانہ ہے
سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبروجو نہیں عدو تو فرازؔ تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہےیہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
وہ منکر ہے تو پھر شاید ہر اک مکتوب شوق اس نےسر انگشت حنائی سے خلاؤں میں لکھا ہوگا
ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیںان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں
چہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابے
وجہ معاش بے دلاں یاس ہے اب مگر کہاںاس کے ورود کا گماں فرض محال بھی نہیں
ہم پہ ہی ختم نہیں مسلک شوریدہ سریچاک دل اور بھی ہیں چاک قبا اور بھی ہیں
اب اسے دار پہ لے جا کے سلا دے ساقییوں بہکنا نہیں اچھا ترے مستانے کا
منصب دل خوشی لٹانا ہےغم پنہاں کی پاسبانی بھی
رہا میں شاہد تنہا نشین مسند غماور اپنے کرب انا سے غرض رکھی میں نے
سرفروشی کے انداز بدلے گئے دعوت قتل پر مقتل شہر میںڈال کر کوئی گردن میں طوق آ گیا لاد کر کوئی کاندھے پہ دار آ گیا
میں نے دیکھا ہے جو مردوں کی طرح رہتے تھےمسخرے بن گئے دربار میں رہنے کے لیے
مذہب عشق کوئی چھوڑ مرے تو میں نےایسے مرتد کا جنازہ نہیں ہونے دینا
کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینیٔ بہارجا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے لا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books