aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maute.n"
عبدالمتین نیاز
born.1929
شاعر
ہجر مومن
born.2005
معین نظامی
born.1965
عارف عبدالمتین
1923 - 2001
شاہد صدیقی
1911 - 1962
رام نرائن موزوں
- - 1763
اقبال متین
1929 - 2015
مصنف
مبین مرزا
غیاث متین
born.1939
نازش بدایونی
1875 - 1936
حمیدہ معین رضوی
born.1943
معین گوہر
born.1994
متین اچل پوری
born.1950
اِرسہ مبین
born.2002
سید مبین علوی خیرآبادی
born.1936
ایک کے بعد ایک کئی موتیں مر کراب میں زندہ ہو گیا ہوں
میں ایک ہی سانس میںبہت سی موتیں مر جاتا ہوں
زندگی ایک کہرام جیسےجینا دشوار موت آسان ہے
نہ معلوم یہ کتنی موتیں مری ہےتمہارے لبوں تک دعا آتے آتے
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
مرثیہ عربی لفظ "رثا " سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے مرنے والوں پر ماتم کرنا اور ان کی فضیلت بیان کرنا۔ اردو میں، یہ صنف زیادہ تر امام حسین علیہ السلام کی تعریف اور کربلا کے سانحے کے بیان کے لیے مخصوص ہے۔
बातें باتیں
بات (رک) کی جمع مغیرہ حالت میں.
मरनें مَرنیں
مرنے (رک) کا قدیم املا ۔
मौजें مَوجیں
موج کی جمع، تراکیب میں مستعمل، لہریں، ترنگیں
عربی
लातें لاتیں
لات کی جمع، تراکیب میں مستعمل، ٹان٘گیں
غیب کا ستارہ
مجموعہ
فوزمبین در رد حرکت زمین
احمد رضا خاں بریلوی
سلطان محمود غزنوی
مبین رشید
سوانح حیات
قانون مباشرت
مبین احمد مبین دہلوی
بلاغ المبین
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
اسلامیات
ضیائے مبین
نعت
البلاغ المبین
موجِ کوثر
شیخ محمد اکرام
تہذیبی وثقافتی تاریخ
خواجگان چشت گجرات
محمد فضل المتین چشتی
چشتیہ
آگہی کے ویرانے
افسانہ
فکر متین
متین نیازی
موج دریا
عرفان صدیقی
موج ادب
کوثر مظہری
معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین
موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی
شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی
تو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سراب
جو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھا
حیات و موت کے پر ہول خارزاروں سےنہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغ
ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہوآتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستودوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو
موت کا بھی علاج ہو شایدزندگی کا کوئی علاج نہیں
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہےجسم و زباں کی موت سے پہلے
نا اک دن موت آنے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتا
رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہےترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں
آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والےآج بے موت مریں گے مرے مرنے والے
ہوائیں چلیں اور نہ موجیں ہی اٹھیںاب ایسے بھی طوفان آنے لگے ہیں
یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستییہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books