aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "muhr"
حاتم علی مہر
1815 - 1879
شاعر
غلام رسول مہر
1895 - 1971
مصنف
مہر زریں
1933 - 2014
سلطان اورنگ زیب عالمیر
1618 - 1707
عبداللہ خاں مہر لکھنوی
سورج نرائن مہر
1859 - 1932
مہر حسین نقوی
born.1997
سید آغا علی مہر
سعدی گیلانی
born.1989
سدیش کمار مہر
مہر فام
born.1999
سلطانہ مہر
born.1938
مہر علی
born.2004
مہر اکبرآبادی
1916 - 1989
مہر افشاں فاروقی
کہیں مہر کو تاج زر مل رہا تھاعطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی
بہر تصدیق سند نامۂ نسبت عشاقمہر خاتم کے نگینے کی طرف دیکھتے ہیں
مذہب کا صرف نام ہے ورنہ سماج پراب تک ہے مہر ثبت وہی ذات پات کی
کیا کانپتی ہے تھرتھرلیکن ہے مہر لب پر
زباں پہ مہر لگی ہو تو راہ الفت میںنگاہ شوق سے اس کو پیام کرتے چلو
बहर بَحْر
(دریا) سمندر، خلیج، کھاڑی
عربی
बहर بَہْر
بیڑا، پانی کے جہازوں یا کشتیوں کا مجموعہ
मेह्र مِہْر
سال شمسی کا ساتواں مہینہ جس میں آفتاب برج میزان میں رہتا ہے
فارسی
मह्र مَہْر
وہ مقررہ رقم یا جنس جو مسلمان مرد اپنے نکاح کے عوض اپنی منکوحہ کو ادا کرتا ہے یا ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے، حق زوجیت
نقش رحمانی
پیر مہر علی شاہ
کرم حیدری
ترجمہ
مطالب بانگ درا
شرح
مطالب بال جبریل
قصہ مہر افروز و دلبر
عیسوی خان بہادر
داستان
اٹھارہ سو ستاون (1857)
ہندوستانی تاریخ
1857 پاک و ہند کی پہلی جنگ آزادی
مہر دو نیم
افتخار عارف
مجموعہ
اقبالیات
تحقیق
ہدایت نامہ بندوبست و مالگزاری
سر ولیم میور
قانون / آئین
فرہنگ غالب
لغات و فرہنگ
مخدوم محی الدین حیات اور کارنامے
شاذ تمکنت
مولانا ابوالکلام آزاد
تنقید
سرگزشت مجاہدین
مولانا غلام رسول مہر: حیات اورکارنامے
شفیق احمد
سبھی کے جسم پہ اچھائی کی تھی مہر شکیلؔاس انجمن میں اکیلا خراب میں ہی تھا
بادشہ سے یہ بولے وہ ہنس کرمہر ہوتی ہے دانے دانے پر
شعورؔ اپنے لبوں پر تم خوشی سے مہر لگنے دودبانے سے تو افکار و خیالات اٹھنے لگتے ہیں
ساقیا مہر بلب کر کے صلہ کیا پایاحشر کچھ اور خموشی نے بپا رکھا ہے
آج دنیا کے لبوں پر مہر ہےکل تلک ہاں صاحب گفتار تھی
اور کھلتی ہے ہاتھ میں مہندیمہر بوسہ جو وہ لگاتا ہے
بہ مہر نامہ جو بوسہ گل پیام رہاہمارا کام ہوا اور تمہارا نام رہا
مہر بر لب کھڑے تھے اہل وفابے سوال آپ کا جواب آیا
حیرت سے اس کے رو کی چپ لگ گئی ہے ایسیگویا کہ مہر کی ہے میرے دہاں کے اوپر
سارے اصول مہر بلب دیکھتے رہےجب جھوٹ کی پناہ میں ہر ایک بچ گیا
گل مہر پہ خزاں نے لگائی ہے غم کی مہرتیتر کھنڈر پہ شاخ کی سسکاری بھر گیا
غلط ہے پوچھنا لوگوں سے داستان ستمزباں پہ مہر لگی ہو تو کوئی کیا بولے
بے زری سے داغ ہیں لیکن لبوں پر مہر ہےکہیے حاجت اپنی لوگوں سے جو وے ہوں مال کچھ
یا تو سقراط ہے اب مصلحتاً مہر بلبلوگ ہی مر گئے یا زہر پلانے والے
لبوں پہ مہر کا اعلان بھی نہیں سمجھامری خموشی کا نقصان بھی نہیں سمجھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books