aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naa-ravaa"
این۔ وینکٹیشورا راو
مصنف
رعنا پبلیشرز، نئی دہلی
ناشر
رعنا کتاب گھر، نئی دہلی
انجام ظلم غیر مناسب کا یہ ہواپچھتا رہے ہیں وہ ستم ناروا کے بعد
ناروا کہئے ناسزا کہئےکہئے کہئے مجھے برا کہئے
ناروا کہیے ناسزا کہیےکہیے کہیے مجھے برا کہیے
ستم ناروا کو روتے ہیںچرخ تیری جفا کو روتے ہیں
کچھ حد بھی اے فلک ستم ناروا کی ہےہر سانس داستاں ترے جور و جفا کی ہے
فلم اور ادب میں ہمیشہ سے ایک گہرا تعلق رہا ہے ،اگر بات ہندوستانی فلموں کی ہو تو ان میں استعمال ہونے والی زبان، ڈائلوگز ، اسکرین رائٹنگ اور نغموں میں اردو کا ہمیشہ سے بول بالا رہا ہے جو اب تک جاری ہے۔ آج اس کلیکشن میں ہم نے راجہ مہدی علی خان کے کچھ مشہورنغموں کو شامل کیا ہے ۔ پڑھئے اور کلاسیکل گانوں کا لطف لیجئے۔
ना-रसा نا رَسا
۔ نہ پہنچنے والا ، رسائی میں ناکام ، جو منزل تک نہ پہنچ سکے ۔
فارسی
कहाँ का रहा کہاں کا رہا
ناکارہ ہو گیا ، بے کار ہو گیا ، کسی کام کا نہ رہا.
ना-रवाई نا رَوائی
ناروا ہونے کی حالت ، کس مپرسی ؛ عدم رواج ۔
ला-दवा لا دَوا
جو علاج کے لائق نہ ہو، جس کی دوا نہ ہو، جو (شخص یا مرض) علاج کے لائق نہ ہو، لا علاج، بے درماں
عربی
ایک روشن چراغ تھا نہ رہا
اسعد ادروی
درد نا رسا
میر ہاشم
مجموعہ
شہر نارسا
طاہر حنفی
پروفیسر مغنی تبسم ایک روشن چراغ تھا نہ رہا
فاطمہ بیگم
مرتب
خواب ناتمام
موسیٰ رضا
نا خدا
سید حماد رضا بخاری
اسلامیات
ناام بہ نام
رضا نقوی واہی
ابھی ناؤ نہ باندھو
کالی داس گپتا رضا
غزل
ہم رہے نہ ہم
اکبر رضا جمشید
ڈرامہ
چشم نم
عظمت رضا
ناول
احترام
نعت
نے ناشنیدہ غالب
نے نا شنیدۂ غالب
انتخاب
ذوق نعت
محمد حسن رضا خان
ہجر نا تمام
رانا خالد محمود قیصر
قدم قدم کا علاقہ ہے ناروا تک ہےفسون جور و جفا پیشہ جا بجا تک ہے
کیوں ہو رہا ہے تجزیۂ جور نارواتصویر کا یہ رخ بھی کسی کی نظر میں ہے
قصیدے میں گریز ناروا کاموڑ آ جائے
گلہ فضول تھا عہد وفا کے ہوتے ہوئےسو چپ رہا ستم ناروا کے ہوتے ہوئے
وہ وقت ہے کہ خلق پہ ہر ظلم ناروااللہ کا نام لے کے روا ہونے والا ہے
ہر ظلم ناروا کا مخالف رہا تھا جومنصب ملا تو اس کا بھی لہجہ بدل گیا
آپ کہتے ہیں ناروا تو کہیںعرض غم ناروا نہیں ہوتی
رہے نہ آنکھ تو کیوں دیکھیے ستم کی طرفکٹے زبان تو کیوں حرف ناروا کہیے
بتوں کا شیوہ تو ہے ظلم ناروا کرنامگر خبر نہیں اللہ کو ہے کیا کرنا
سراسر ظلم ہے اس بات میں تم سے گلا میراردا رکھو جسے تم پھر وہ ظلم ناروا کیوں ہو
یہ غزل لکھی تو ہے شعلہؔ مگر از روئے فندے گئی چرکا شکست ناروا برسات کی
نہ عام کر تو مذاق جفا خدا کے لئےیہ دل بہت ہے ترے جور ناروا کے لئے
ایسی کیا ہو گئی خطا مجھ سےمجھ پہ ہے جور ناروا سب کا
کوئی یہ سوچے وہ کیا کرے گا تباہیوں کا گلہ کسی سےجو ان کے ہر ظلم ناروا کو عزیز رکھتا ہے زندگی سے
وہ رکھتا ہے مجھے اس طرح اپنی چست بندش میںکبھی مجھ کو شکست ناروا ہونے نہیں دیتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books