aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naqs"
نقش لائل پوری
1928 - 2017
شاعر
صفی لکھنوی
1862 - 1950
مہیش چندر نقش
1923 - 1980
عباس کیفی
born.1986
مقبول نقش
died.2005
میر نقی علی خاں ثاقب
صوفی لکھنوی
نقی نیازی
born.2003
نقی نقوی
born.2009
رفیق احمد نقش
1959 - 2013
سید علی نقی
مصنف
نقی محمد خان خورجوی
نقاش سلطان پوری
مدیر
نقی احمد ارشاد
سید تبارک علی نقش بندی
میری ہر بات بے اثر ہی رہینقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیئے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔۔۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں، وہ اس عہد کی...
مجھ پر مرے وجود کا ہر نقص ہے عیاںخود ایک آئنہ ہوں میں اپنے وجود میں
نظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہےکہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے
یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تخت شاہی پرکبھی مکار بیٹھے ہیں کبھی غدار بیٹھے ہیں
नक़्स نَقْص
عربی
کمی، کوتاہی، کسر، ادھورا پن، ناتمامی
'अक्स عَکْس
الٹ، الٹا کرنا، منقلب کرنا، تقلیب
नक़्श نَقْش
(قلم یا رنگوں سے کھینچا ہوا) خاکہ، نگار، نقشہ، مصوری، تصویر، مصوری کا نمونہ
रक़्स رَقْص
اصول نغمی یا فطری امنگ اور جوشِ مسرت میں تھرکنے اور ناچنے کا عمل یا کیفیت
انتخاب نقص
ابو محمد عبد الغفور خان
تصحیف کاتبین
میرزا احمد سلطان
نقش سویدا
محمد نبی خاں جمال سویدا
شہید انسانیت
تحقیق و تنقید
نقش فریادی
فیض احمد فیض
مجموعہ
اصطلاحات نقدوادب
عمر فاروق
زبان
دیوان غالب
مرزا غالب
دیوان
مرزا مظہر جان جاناں
تحقیق
نقش حیات
حسین احمد مدنی
خود نوشت
نقد میر
سید عبداللہ
شاعری تنقید
عمر رفتہ
حیرت ناک کہانیاں
جمیل جالبی
افسانہ
عصمت چغتائی نقد کی کسوٹی پر
جمیل اختر
فکشن تنقید
معرکۂ کربلا
اسلامیات
ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہےمجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے
انسان کا اگر قد و قامت نہ بڑھ سکےتم اس کو نقص آب و ہوا کہہ لیا کرو
وہی نقص ہے وہی کھوٹ ہے وہی ضرب ہے وہی چوٹ ہےوہی سود ہے وہی فائدہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ایسی ترتیب سے رکھا تھا سجا کر دانشؔمال میں نقص خریدار نہیں دیکھ سکا
سرے سے جو کہیں موجود ہی نہ تھا آخروہ نقص بھی مرے کردار سے نکل آیا
ہزار شکر کہ ہم نقص میں ہوئے کاملجلیلؔ رہ گئی بات اپنی ذی کمالوں میں
بھری ہے انجمن لیکن کسی سے دل نہیں ملتاہمیں میں آ گیا کچھ نقص یا کامل نہیں ملتا
تو نے مرے خمیر میں کتنے تضاد رکھ دیئےموت مری حیات میں نقص مرے کمال میں
بس نقص ہے تو اتنا کہ ممدوح نے کوئیمصرع کسی کتاب کے شایاں نہیں لکھا
ہیں وہ صوفی جو کبھی نالۂ ناقوس سناوجد کرنے لگے ہم دل کا عجب حال ہوا
یہ احتیاط کدہ ہے کڑے اصولوں کاذرا سے نقص پہ بانیؔ یہاں سزا ہے بہت
نالۂ عجز نقص الفت ہےرنج و محنت کمال راحت ہے
ذرا ذرا سے کئی نقص ہیں ابھی مجھ میںنئے سرے سے مجھے گوندھ کر بنایا جائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books