aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "niyaaz"
برگ و گل شاخ و ثمر ہو گئے محفوظ نیازؔباغ میں جب سے شراروں پہ نظر ہے میری
پیار روحوں میں کشش بن کی دھڑکتا ہے نیازؔیہ وہ جذبہ ہے جو پل بھر میں شناسائی کرے
حرکت و سکنات زندہ ہیں نیازؔ اس میں مگرسچ تو یہ ہے جانے کب کا مر چکا ہے آدمی
شاہ نیاز احمد بریلوی
1775 - 1852
مصنف
نیاز فتح پوری
1884 - 1966
منیر نیازی
1928 - 2006
شاعر
عبدالمتین نیاز
born.1929
نیاز حسین لکھویرا
born.1952
نیاز سواتی
1941 - 1995
اظہر ادیب
born.1949
کوثر نیازی
نیاز حیدر
ذیشان نیازی
born.1974
حماد نیازی
born.1984
متین نیازی
1913 - 1993
نیاز سلطانپوری
born.1954
طارف نیازی
born.1987
نذر فاطمی
آج تک نظروں میں ہے وہ صحبت راز و نیازاپنا جانا یاد ہے تیرا بلانا یاد ہے
مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
قبلۂ مقصد نگاہ نیازپھر وہی پردۂ عماری ہے
بے نیاز کف دریا انگشتریت پر نام لکھا کرتی ہے
پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے
ستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے۔
निया نِیا
دادا یا نانا نیز ماموں
فارسی
नियाज़ نِیاز
حاجت، احتیاج، طلب
रियाज़ رِیاض
باغ، چمن
عربی
नियत نِیَت
شاہ نیاز کا فارسی کلام
شاعری
ترغیبات جنسی
جنسیات
ترغیبات جنسی یا شہوانیات
راز نیاز
حضرت شاہ محمد تقی
مجموعہ
من و یزداں
اسلامیات
مذہب
دیگر
اردو تذکرہ نگاری
تذکرہ
فلاسفہ قدیم
فلسفہ
جھانسی کی رانی
ڈرامہ
دیوان نیاز بے نیاز
دیوان
دیوان شاہ نیاز
اردو گیت : تاریخ، تحقیق اور تنقید کی روشنی میں
بیگم بسم اللہ نیاز احمد
گیت
کیوپڈ اور سائک
نیاز فتح پوری کا نگار
عطا خورشید
اشاریہ
نیاز فتحپوری
ف س اعجاز
مونوگراف
ہر شخص سے بے نیاز ہو جاپھر سب سے یہ کہہ کہ میں خدا ہوں
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
ہو بے نیاز اثر بھی کبھی تری مٹیوہ کیمیا ہی سہی رہ گئی کسر پھر بھی
مرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گداز
دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
اس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا ناز
ہو گئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگجو سراپا ناز تھے ہیں آج مجبور نياز
دل رہین نیاز ہو جائےبیکسی کارساز ہو جائے
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سےبتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
جب دور تک نہ کوئی فقیر آشنا ملاتیرا نیاز مند ترے در سے جا ملا
غرور حسن سراپا نیاز ہو تیراطویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے
اور کچھ تحفہ نہ تھا جو لاتے ہم تیرے نیازایک دو آنسو تھے آنکھوں میں سو بھر لائے ہیں ہم
گھڑی گھڑی نہ ادھر دیکھیے کہ دل پہ مجھےہے اختیار پر اتنا بھی اختیار نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books