aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "parda-haa-e-baam-o-dar"
دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھواٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ
خرابۂ بام و در بہت یاد آ رہا ہےنہ جانے کیوں آج گھر بہت یاد آ رہا ہے
کیا خبر کب قید بام و در سے اکتا جائے دلبستیوں کے درمیاں صحرا بھی ہونا چاہیئے
ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیاچراغ کو جو بچاتے تھے ان کا گھر بھی گیا
کوئی یہاں سے چل دیا رونق بام و در نہیںدیکھ رہا ہوں گھر کو میں گھر ہے مگر وہ گھر نہیں
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
ماں سے محبت کا جذبہ جتنے پر اثر طریقے سے غزلوں میں برتا گیا ہے، اتنا کسی اور صنف میں نہیں۔ ہم ایسے کچھ منتخب اشعار آپ تک پہنچا رہے ہیں، جو ماں کو موضوع بناتے ہیں۔ ماں کے پیار، اس کی محبت ، شفقت اور اپنے بچوں کے لئے اس کی جاں نثاری کو واضح کرتے ہوئے یہ اشعار جذبے کی جس شدت اور احساس کی جس گہرائی سے کہے گئے ہیں، اس سے متاثر ہوئے بغیر آپ نہیں رہ سکتے۔ ان اشعار کو پڑھئے اور ماں سے محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجئے ۔
دروبام تخیل
فرخ ہمایوں
شاعری
بام و در
علیم عثمانی
غزل
درد کا صحرا
انیس جیلانی
ہندوستانی تاریخ
بزم عیش
ایچ۔ ایم۔ حیران
کلید باب الحج
سید محمد انور علی عاجز کانپوری
مطبوعات منشی نول کشور
بزم شیدا
تلسی داس
افغانستان بعد از اسلام
عبدالحی حبیبی
بال جبریل کا تنقیدی مطالعہ
ڈاکٹر صدیق جاوید
رسالہ بزم خیر از دید در جواب بزم جمشید
ابوالحسن
تصوف
نیک و بد کی تمیز
بھگت ہرنام داس
بلائے بد
مولانا وحید الحق
ناول
تضمین بر غزل ڈاکٹر اقبال
انتخاب
برگ و بار
برہم ناتھ دت
مجموعہ
فراوردہ ھای بیولوژی
ڈاکٹر سید ہادی صمصام
چشم بد دور
حسرتؔ جے پوری
گیت
کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریببگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ہیں
میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیر بام و درمیرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے
رونق بام و در نہیں باقیکیسے کہہ دوں کہ گھر نہیں باقی
وحشت بام و در سے بھاگتے ہیںجب کبھی اپنے گھر سے بھاگتے ہیں
پہلے جیسا رنگ بام و در نہیں لگتا مجھےاب تو اپنا گھر بھی اپنا گھر نہیں لگتا مجھے
غزل کو اپنی میں نے سچ کے بام و در پہ رکھا ہےمرے شعروں کو اس نے طنز کے خنجر پہ رکھا ہے
جاگ اٹھے بام و در چراغ جلےکون آیا ادھر چراغ جلے
دیکھ کر بام و در کا سناٹابول اٹھتا ہے گھر کا سناٹا
بام و در خامشی کے بوجھ سے چورآسمانوں سے جوئے درد رواں
بام و در چپ سادھ چکے ہیںطاق میں اک مٹی کا دیا اندھیاروں سے باتیں کرتا ہے
مانوس بام و در سے نظر پوچھتی رہیان میں بسے وہ لوگ پرانے کہاں گئے
وہ دل کشی وہ روشنئ بام و در گئیتم کیا گئے کہ رونق شام و سحر گئی
کچے آنگن کا وہ گھر وہ بام و درگاؤں کی پگڈنڈیاں وہ رہ گزر
چند یادیں ہیں بام و در کے سواذہن میں کچھ نہیں کھنڈر کے سوا
سونا سونا آنگن ہے اور بام و در خاموشکس سے گفتگو کیجے ہو جو گھر کا گھر خاموش
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books