aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "purkaar"
پرنم الہ آبادی
1940 - 2009
شاعر
پرکھر مالوی کانھا
born. 1991
جینت پرمار
born.1955
پیکر جعفری
مصنف
فرقت کاکوروی
1910 - 1973
فخر لالہ
born.1983
نور پرکار
born.1942
نور پیکر
غلام حسین ذو الفقار
پیکر یزدانی
فرقان سنبھلی
1973 - 2021
ذو الفقار علی بھٹو
مشرف علی خاں فرقان
پرمار ٹھاکر نگینہ رام
محمد رفیع اللہ پیکر خادمی
تم خون تھوکتی ہو یہ سن کر خوشی ہوئیاس رنگ اس ادا میں بھی پرکار ہی رہو
اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہومیں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو
وہ آنکھ کہ ہے سرمۂ افرنگ سے روشنپرکار و سخن ساز ہے نمناک نہیں ہے
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میںجی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
ان آبلوں سے پانو کے گھبرا گیا تھا میںجی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر
पुकारे پُکارے
علی الاعلان، ڈن٘کے کی چوٹ (کہنا کے ساتھ)
पुरकार پُرکار
موٹا، دبیز
فارسی
पुकार پُکار
باآواز بلند ، چیخ کر ، چلّا کر .
ہندی
दरकार دَرْکار
ضروری، مطلوب، ضرورت، خواہش، چاہت
قیدی
ہیلل ہالکن
ناول
وادئ پرخار
نامعلوم مصنف
ہفت پرکار
عشرت ظفر
پھول دیکھے نہ گئے
مجموعہ
ہفت پیکر
حفیظ جالندھری
افسانہ
ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی
سمیہ تمکین
تنقید
اردو ادب میں طنز و مزاح
طنز و مزاح تاریخ و تنقید
میرا پاکستان
اقبال: ایک مطالعہ
مزاحیہ شرح دیوان غالب
شرح
طنز و مزاح
نثر
اردو غزل میں پیکر تراشی
شہپر رسول
غزل تنقید
فنکار کرشن چندر
محمد غیاث الدین
اردوادب میں طنز و مزاح
زبان و ادب
مصر قدیم
عالمی تاریخ
نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکارینہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رباک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے
راہ پر خار ہے کیا ہونا ہےپاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے
کجا معزولیٔ آئینہ کو ترک خود آرائینمد در آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
سادہ پرکار ہیں خوباں غالبؔہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں
شوخ و شاداب و حسیں سادہ و پرکار آنکھیںمست و سرشار و جواں بے خود و ہشیار آنکھیں
مژہ فرش رہ و دل ناتوان و آرزو مضطربہ پائے خفتہ سیر وادیٔ پر خار بستر ہے
محبت صلح بھی پیکار بھی ہےیہ شاخ گل بھی ہے تلوار بھی ہے
روز و شب میں گھومتا ہوں وقت کی پر کار پراپنے چاروں سمت کوئی دائرہ رکھتا ہوں میں
آتی ہے او قیس لیلیٰ دشت میںخون پا سے جلد اب پر خار رنگ
بہت سادہ بہت پرکار لیکننگینوں سے ہماری دوستی ہے
راہ پرخار تھی مگر مجھ کواپنا دامن بھی خود بچانا تھا
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رباک آبلہ پا وادی پر خار میں آوے
بہت پر خار ہوتامحبت پیاس ہے شاید
بے مقصد جینا کہتے ہیں حیوان کے جیسا جینے کوانساں کے لیے تو یہ جیون یارو پر خار بچھونا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books