aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qaabil-e-jaur-o-sitam"
مکتبئہ جاءالحق، کراچی
ناشر
کامل قریشی
born.1935
مصنف
کیو۔ اے۔ کبیر
مترجم
انجمن تاریخ افغانستان، کابل
ابن کامل باجوری
دبستان کامل، کراچی
جشن کامل کمیٹی، لکھنؤ
کامل ابن مصطفیٰ
کارکنان کامل، لاہور
ماہ کامل پبلیکیشنز، دہلی
شعبۂ نشریات و اطلاعات، کابل
شعبۂ نشریات انجمن ادبی، کابل
موسسۂ انتشارات امیر کبیر، تہران
اتنی جو اذیت اسے دیتا ہے تو ہر دمکیا قابل جور و ستم اے یار وہی ہے
ہم انتہائے جور و ستم دیکھتے رہےیعنی کہ ان کے لطف و کرم دیکھتے رہے
کس زباں سے شکوۂ جور ستم آرا کریںجس کو اچھا کہہ چکے اس کی برائی کیا کریں
ادا و ناز و کرشمہ جفا و جور و ستمادھر یہ سب ہیں ادھر ایک میری جاں تنہا
دل پہ جور و ستم گراں نہ ہوئےکیسے کہہ دوں وہ مہرباں نہ ہوئے
کلاسیکی شاعری میں قاتل محبوب ہے ۔ اسی لئے محبوب کی بھوؤں کو تلوار اور پلکوں کو نیزہ سے تشبیہ عام ہے ۔ وہ اپنے انہیں اوزاروں ، جلوؤں اور اداؤں سے اپنے عاشقوں کا قتل کرتا ہے ۔ جدید شاعری میں قاتل عشق کے دائرے سے باہر نکل آیا ہے اور وہ اپنی تمام تر سماجی صورتوں کے ساتھ شاعری میں برتا گیا ہے ۔ معیاری شعروں کا ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا۔
ناقابل فراموش
شرح قانون دستاویزات قابل بیع وشراےممالک محروسہ سرکار عالی
محمد عبدالرحیم
قابل تقلید نظائر و امثال
محمد شمس الدین صدیقی
اخلاقیات
مسلم پرسنل لا، ناقابل تبدیل
نامعلوم مصنف
طرز ستم
مینا ناز
ذیابیطس ایک قابل علاج مرض
داؤد احمد شاہین
دیوان سنگھ مفتون
ناول
جور فلک
إيلين وود
ابر ستم
زبیر فاروقؔ
مجموعہ
امام حسن (ایک قابل تقلید عبقری شخصیت)
محمد اسماعیل آزاد فتح پوری
انتخاب تعزیرات ہند قابل استعمال ہر عدالت فوجداری
ڈاکٹر چھیدی لال
مولانا عرشی حق و صداقت کی قابل رشک مثال
آمنہ خاتون
ذیابیطس قابل علاج ہے
حکیم مرزا امام الدین
صحت عامہ
شہرستم
ملک زادہ منظور احمد
انتخاب
ہمیں پہ ختم ہیں جور و ستم زمانے کےہمارے بعد اسے کس کی آرزو ہوگی
ہم پہ جور و ستم کے کیا معنیترک رحم و کرم کے کیا معنی
تو یاد آیا ترے جور و ستم لیکن نہ یاد آئےمحبت میں یہ معصومی بڑی مشکل سے آتی ہے
کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھاہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا
اٹھاتے ہیں مزے جور و ستم کےکچھ ایسے خوگر بیدار ہیں ہم
یار کا جور و ستم کام ہی کر جاتا ہےکتنا جی عاشق بیتاب کا مر جاتا ہے
بیگانہ ادائی ہے ستم جور و ستم میںہم چھپنے نہ پائے کہ چھپا آپ وہ ہم میں
کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانہ تھاہمارے دل کو بہر حال ٹوٹ جانا تھا
آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیںہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
یہ ہم ہیں کہ جور و ستم دیکھتے ہیںسحر اٹھ کے پھر یہ قدم دیکھتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books