aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qms"
ناصر کاس گنجوی
1928 - 2002
شاعر
مطبع خاص دکن، حیدرآباد
ناشر
مطبع خاص محمدی
انتشارات در راہ حق قم
مدیر
کتبخانہ مرکزی آستان قدس رضوی
مطبع خاص سحر سامری
سی ایس کنی
مصنف
مجلس انتظام پائیگاہ خاص
فرد الاولیا
کے۔ایم۔آصف عاظمی
بلدیہ میرپورخاص
مطبع خاص علوی
مطبع خاص مولوی شیخ الزماں
عبدالقدس گنگوہی
کے۔ ایم۔ عارف الدین
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہمتو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دونہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کوکیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوںاگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتی
بوسہ پر شاعری عاشق کی بوسے کی طلب کی کیفیتوں کا بیانیہ ہے ، ساتھ ہی اس میں معشوق کے انکار کی مزے دار صورتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں ۔ یہ طلب اور انکار کا ایک جھگڑا ہے جسے شاعروں کے تخیل نے بےحد رنگین اور دلچسپ بنادیا ہے ۔ اس مضمون میں شوخی ، مزاح ، حسرت اور غصے کی ملی جلی کیفیتوں نے ایک اور ہی فضا پیدا کی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے اور ان کیفیتوں کو محسوس کیجئے۔
बस بَس
کافی، بقدر کفایت
سنسکرت, فارسی
'उम्र عُمْر
زندگی کی ابتدا سے لے کر انتہا تک کا یا کسی درمیانی منزل تک کا زمانہ
عربی
'अक्स عَکْس
الٹ، الٹا کرنا، منقلب کرنا، تقلیب
'आस عاس
رات میں پہرا ور گشت کرنے والا
خس و خاشاک زمانے
مستنصر حسین تارڑ
اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
اسلامیات
آئی۔سی۔ایس
علی عباس حسینی
افسانہ
شرف الانساب
محمد علی ارشد شرفی
تصوف
مجلس خلوت
یوسف حسن
جنسیات
عماد التحقیق
کلب عابد
مقالات/مضامین
یہ کس کا خواب تماشا ہے
خالد جاوید
تاریخ و تنقید
حضرت قادر قمیص اعظم: حیات و کرامات
اخلاق حسین دہلوی
قادریہ
کالے کوس
بلونت سنگھ
ناول
تحقیق
نجم الاسلام
خاص نمبر: شمارہ نمبر۔005,006
سجاد نقوی
اوراق
کس سے منصفی چاہیں
طاہر محمود
صحافت
پردہ مگر کس حد تک؟
راشد شاذ
امیر افغان
مائل ملیح آبادی
رومانی
کس دیس بستیاں ہیں
جگن ناتھ آزاد
خاکے/ قلمی چہرے
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
زندگی کس طرح بسر ہوگیدل نہیں لگ رہا محبت میں
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباددیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھیتو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناںتم مری زندگی کی عادت ہو
اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیںہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا
شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم
کس لیے دیکھتی ہو آئینہتم تو خود سے بھی خوب صورت ہو
آسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ ترا
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھانہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میںکون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہےکس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books