aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "raabta"
رابعہ سلطانہ ناشاد
born.1921
شاعر
رابعہ الرباء
born.1974
مصنف
رابعہ بصری
born.1980
رابعہ پنہاں
1906 - 1972
ربیعہ فخری
یوپی رابطہ کمیٹی، علی گڑھ
ناشر
رابعہ برنی
born.1924
ربیعہ سلیم
born.1979
شعبہ رابطہ عامہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی
رابطۂ ادب اسلامی، بھروچ
مرکزی دفتر رابطۂ ادب اسلامی، لکھنؤ
محکمۂ اطلاعات ورابطۂ عامہ اترپردیش، لکھنؤ
عالمی رابطۂ ادب اسلامی, لکھنؤ
رابطہ بلیکیشنز، دہلی
نظامت رابطہ عامہ، مدہیہ پردیش
کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہےکبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھےکبھی گودی میں لیتے تھےکبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کرنیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے چھوتے تھے جبیں سے
تری طرف چلے تو عمر کٹ گئییہ اور بات راستہ کٹا نہیں
جانے والے سے رابطہ رہ جائےگھر کی دیوار پر دیا رہ جائے
میرا اک یار سندھ کے اس پارناخداؤں سے رابطہ کیا جائے
تری طلب کا سبب صرف خالی پن تو نہیںکہ تجھ سے رابطہ میرا ضرورتاً تو نہیںمیں ڈھونڈھتا تھا شجر آسماں کے ہوتے ہوئےترے فراق میں تھا دو جہاں کے ہوتے ہوئےجب آشنا تھی محبت کی ہر گلی مجھ سےمیں زندگی سے بہت خوش تھا زندگی مجھ سےجب احترام کیا کرتی تھی صبا میرابہار کھوج لیا کرتی تھی پتہ میراجب آنسوؤں کو میسر ہزار شانے تھےجب انتظار نہ کرنے کے سو بہانے تھےتری امید سے دل بے قرار تب بھی تھایقین کر کہ ترا انتظار تب بھی تھا
راستہ ، سفر، منزل ، مسافر اور اس قسم کی دوسری لفظیات جو سفر ہی کے علاقے کی ہیں شاعری میں کثرت سے برتی گئی ہیں ۔ یہاں ہم کچھ ایسے اشعار پیش کر رہے ہیں جن میں راستہ اپنی تمام تر رسومیات کے ساتھ در آیا ہے ۔ یہ راستہ کبھی ملتا بھی ہے اور منزل تک پہنچاتا بھی ہے اور کبھی گم ہوجاتا ہے ۔ راستے کی پیچیدگی اور اس کی کثرت منزل کو بے نشان کردیتی ہے ۔ آپ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور زندگی کے زندہ تجربات میں شرکت کیجئے ۔
रहताرہتا
رہنا سے ماخوذ، تراکیب میں مستعمل
रहटाرَہٹَا
ہندی
چرخہ
राब्ताرابطَہ
عربی
ملانے یا منسلک کرنے یا وابستہ کرنے والی چیز .
रास्ताراسْتَہ
فارسی
۱ . راست ، سیدھا ، دایاں .
رابطہ
جوگندر پال
تنقید
اردو الفاظ ایک بین الاقوامی رابطہ
محمد نعیم اللہ خیالی
زبان
شمارہ نمبر-004
نثار احمد زبیری
Oct 1985رابطہ، کراچی
شمارہ نمبر-006
Dec 1985رابطہ، کراچی
شمارہ نمبر۔000
سید محمد یعقوب
رابطہ، کراچی
شمارہ نمبر-011
May 1985رابطہ، کراچی
004
محمد عیاض غزنوی
Oct 1989رابطہ، کراچی
شمارہ نمبر۔008
Aug 1995رابطہ، کراچی
شمارہ نمبر۔011
May 1989رابطہ، کراچی
شمارہ نمبر۔009
Sep 2006رابطہ، کراچی
مظہر امام فن اور شخصیت نمبر
نذرالاسلام نظمی
رابطۂ عالم اسلامی اور حیدرآباد دکن
محمد حسام الدین خاں غوری
Sep 1993رابطہ، کراچی
شمارہ نمبر۔001
Jul 1989رابطہ، کراچی
شمارہ نمبر-005
May 1994رابطہ، کراچی
تم نے کیسا یہ رابطہ رکھانہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا
گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھامرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا
جہاں زادوہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوتجس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہےمحیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زنتمام رات تیرتے رہے تھے ہمہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کےتیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سےکہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہےہم ایک دوسرے سے مطمئن زوال عمر کے خلافتیرتے رہےتو کہہ اٹھی: 'حسن یہاں بھی کھینچ لائیجاں کی تشنگی تجھے!'(لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا میںکہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوںسے شاد کام ہوگیا!)مگر یہ وہم دل میں تیرنے لگا کہ ہو نہ ہومرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیانہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیںکہ اب بھی ربط جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھےیہی وہ اعتبار تھاکہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیامیں سب سے پہلے 'اپ 'ہوںاگر ہمیں ہوں تو ہو اور میں ہوں پھر بھی میںہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!اگر میں زندہ ہوں تو کیسے آپ سے دغا کروں؟کہ تیرے جیسی عورتیں، جہاں زاد،ایسی الجھنیں ہیںجن کو آج تک کوئی نہیں 'سلجھ' سکاجو میں کہوں کہ میں 'سلجھ' سکا تو سر بسرفریب اپنے آپ سے!کہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جس کا ہم نہیں(لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکرتیرے لب پہ تھاوہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہالبوں کو نوچتا رہاجو میں کبھی نہ کر سکانہیں یہ سچ ہے میں ہوں یا لبیب ہورقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاط ناب کاجو صد نوا و یک نوا خرام صبح کی طرحلبیب ہر نوائے ساز گار کی نفی سہی!)مگر ہمارا رابطہ وصال آب و گل نہیں، نہ تھا کبھیوجود آدمی سے آب و گل سدا بروں رہےنہ ہر وصال آب و گل سے کوئی جام یا سبو ہی بن سکاجو ان کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!
رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ
ہوا سے روشنی سے رابطہ نہیں رہاجدھر تھیں کھڑکیاں ادھر مکان بن گیا
رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سےپیاس بجھتی ہے میری صحرا سے
نہ جانے کتنے دن گزرےنہ کوئی کال نہ میسجنہ کوئی رابطہ رکھاتمہیں میں یاد تو ہوں نایا مجھ کو بھول بیٹھے ہو
جدا ہوئے تو جدائی میں یہ کمال بھی تھاکہ اس سے رابطہ ٹوٹا بھی تھا بحال بھی تھا
تری سمت جانے کا راستہ نہیں ہو رہارہ عشق میں کوئی معجزہ نہیں ہو رہا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books