aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rah-e-aam"
روح عصر، کراچی
ناشر
انتشارات در راہ حق قم
مدیر
روح ادب پبلی کیشنز، کلکتہ
مکتبہ راہ اسلام، دیوبند، یو۔ پی۔
بزم روح ادب، ٹانڈہ
انجمن روح ادب، الہ آباد
اے۔ کالیشور راؤ
مصنف
دفتر چراغ راہ، کراچی
سید فضل رب
یو۔یس۔موہن راؤ
حضرت رعد جونپوری
یو۔ آر۔ راؤ
مکتبہ چراغ راہ، لاہور
مکتبہ چراغ راہ، کراچی
تیج رام ایم۔ اے۔
جب کبھی رسم و رہ عام صدا دیتی ہےدل کو کیا کیا ہوس نام سدا دیتی ہے
نہیں ہے جب کوئی منزل تو راہ عام پہ چلجہاں پہ موت ہے تیری اسی مقام پہ چل
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے
ہم کہاں اور کہاں رسم و رہ عامغزلجانے کس شوخ کے سر جائے گا الزام غزل
کام جوئی راہ و رسم عام ہےجاں نثاروں کو وفا سے کام ہے
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور۔
مقبول اردو شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ پریم روگ اور رام تیری گنگا میلی کے گیتوں کے لئے مشہور
रह-ए-'आमرَہِ عَامْ
عام راستہ
राह-ए-'आमرَاہِ عَامْ
common path
आह-ए-'इश्क़آہِ عِشْق
sigh of love
आह-ए-शबآہِ شَب
فارسی
وہ آہ جو درد مند دل سے رات کے وقت نکلے
روح ادب-005
محمد طفیل
رہ و رسم آشنائی
علیم اللہ صدیقی
نظم
روح مکاتیب اقبال
علامہ اقبال
خطوط
راہ و رسم منزلہا
عبدالمجید خان
روح کلام غالب
مرزا عزیز بیگ مرزا
دلیل المتحیرین
سید سجاد حسین
محمد عبد اللہ قریشی
روح روشن مستقبل
سید طفیل احمد منگلوری
سیاسی
آفتاب ہدایت رد رفض و بدعت
محمد کرم الدین
تحفۂ محمدیہ
اشرف علی
اسلامیات
رد فتنۂ مودودیت
سید انور علی
مقالات/مضامین
تصدیق المسیح ردع کلم القبیح
حاجی محمد خان
المجلیٰ فی رد قول محلیٰ
محمد ظہیر احسن شوق
عمدۃ اوسیلہ
مولانا نثار احمد
المدارج السنیہ فی الرد علی الوہابیۃ
عامر القادری
ہر بات ہے خالدؔ میں پسندیدہ و مطبوعاک پیرویٔ رسم و رہ عام نہیں ہے
ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاںپابستگی رسم و رہ عام بہت ہے
یار تو قتل عام کر ڈالےتیغ باندھے کہاں کمر ہی نہیں
خیر گزری رہ ہستی میں ہیں لاغرؔ تنہالوگ کہتے ہیں کہ رہبر بھی دغا دیتے ہیں
بلبل نہ باز آئیو فریاد و آہ سےکب تک نہ ہوگی قلب گل تر کو اطلاع
ہائے رے غارت گر صبر و شکیبائی ہوئیوہ تری ترچھی نظر وہ آنکھ شرمائی ہوئی
دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشقکیا بتائیں پڑ گئی ہے پاؤں میں زنجیر عشق
بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذتمہارے واسطے لایا ہوں میں کشمیر سے کاغذ
پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخ
کوچ سوئے عدم ہر مکیں کر گیااور حویلی کھڑی کی کھڑی رہ گئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books