aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rah-e-aam"
روح عصر، کراچی
ناشر
انتشارات در راہ حق قم
مدیر
روح ادب پبلی کیشنز، کلکتہ
مکتبہ راہ اسلام، دیوبند، یو۔ پی۔
انجمن روح ادب، الہ آباد
بزم روح ادب، ٹانڈہ
یو۔یس۔موہن راؤ
مصنف
پنڈت جی جی رام بہادر رضا
شاعر
اے۔ کالیشور راؤ
رائد و لائف فاؤنڈیشن، تاکیشی
حضرت رعد جونپوری
کلیان رائے سکسینہ
فضل رب عرشی تاجپوری
مکتبہ تحفظ ملت، رام نگر، بنارس
تیج رام ایم۔ اے۔
نہیں ہے جب کوئی منزل تو راہ عام پہ چلجہاں پہ موت ہے تیری اسی مقام پہ چل
جب کبھی رسم و رہ عام صدا دیتی ہےدل کو کیا کیا ہوس نام سدا دیتی ہے
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے
ہم کہاں اور کہاں رسم و رہ عامغزلجانے کس شوخ کے سر جائے گا الزام غزل
کام جوئی راہ و رسم عام ہےجاں نثاروں کو وفا سے کام ہے
اس انتخاب میں مختلف شعرا کی تخلیق کردہ وہ نظمیں شامل کی گئی ہیں جن کا عنوان "رات" ہے۔ اس انتخاب کو پڑھنے سے ایک موضوع پر مختلف شعرا کے فکری کائنات کا پتا چلے گا۔
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور۔
مقبول اردو شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ پریم روگ اور رام تیری گنگا میلی کے گیتوں کے لئے مشہور
आह آہ
تکلیف میں گہری سانس لینے یا کراہنے کی آواز، دکھ، درد، غم، درد وغیرہ کے جذبات کا اظہار کرنے والے الفاظ۔
रह-ए-'आम رَہِ عَامْ
عام راستہ
राह-ए-'आम رَاہِ عَامْ
common path
सर-ए-रह سَرِ رَہ
on the way
روح ادب-005
محمد طفیل
روح مکاتیب اقبال
علامہ اقبال
خطوط
رہ و رسم آشنائی
علیم اللہ صدیقی
نظم
دلیل المتحیرین
سید سجاد حسین
راہ و رسم منزلہا
عبدالمجید خان
محمد عبد اللہ قریشی
روح کلام غالب
مرزا عزیز بیگ مرزا
روح روشن مستقبل
سید طفیل احمد منگلوری
سیاسی
ریاض روح و نغمہ روحى
محمد عزیز الدین
روح ادب-002
مرتب
آفتاب ہدایت رد رفض و بدعت
محمد کرم الدین
روح قواعد و انشاء
نامعلوم مصنف
زبان
تصدیق المسیح ردع کلم القبیح
حاجی محمد خان
المدارج السنیہ فی الرد علی الوہابیۃ
عامر القادری
اسلامیات
تحفۂ محمدیہ
اشرف علی
یار تو قتل عام کر ڈالےتیغ باندھے کہاں کمر ہی نہیں
ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاںپابستگی رسم و رہ عام بہت ہے
بلبل نہ باز آئیو فریاد و آہ سےکب تک نہ ہوگی قلب گل تر کو اطلاع
ہائے رے غارت گر صبر و شکیبائی ہوئیوہ تری ترچھی نظر وہ آنکھ شرمائی ہوئی
دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشقکیا بتائیں پڑ گئی ہے پاؤں میں زنجیر عشق
بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذتمہارے واسطے لایا ہوں میں کشمیر سے کاغذ
پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخ
ہر بات ہے خالدؔ میں پسندیدہ و مطبوعاک پیرویٔ رسم و رہ عام نہیں ہے
صد شکر نوازا مجھے اسلوب سخن سےمیرے لیے تقلید رہ عام نہ لکھا
وہ لوگ جو چلتے ہیں رہ عام سے متضادملتے ہیں انہیں راہ گزر اور طرح کے
یہ خلوتوں میں بھی سوچتے ہیں کہ ہم کہاں سے کہاں ہیں آئےکہ راہ منزل سے کیسے کیسے ہمیشہ ہم نے فریب کھائے
آیا تو نظر آیا مجھے خار ضرورتہائے وہ گل خاص رہ عام سے آیا
طنز تو بہت ہوئے پر عجیب بات ہےراہ جو ہماری تھی راہ عام ہو گئی
چمن کا حسن بالآخر گلوں کی آبرو ٹھہرایہ عزت شاہ راہ عام پہ لائی نہیں جاتی
اسے اپنی بد نصیبی نہ کہیں تو پھر کہیں کیاکہ ہزار کوششوں پر رہ عام تک نہ پہنچے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books