aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rasad"
رسا چغتائی
1928 - 2018
شاعر
رسا رامپوری
1870 - 1913
رسا جاودانی
رسا جالندھری
1894 - 1977
قاسم رسا
مصنف
شاہد رسام
born.1971
فن کار
مرزا غلام مصطفیٰ رسا
میر نادر علی رعد
بی۔رسل
رسا ہمدانی
فرید الدین راد مھر
رسید حسین عاشق سندیلوی
مدیر
گوکل پرساد رسا
born.1880
میر بیدار علی رسا
میر سیف اللہ حسین رسا
گماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہو
روک سکتے ہو تو روکو جاذلؔیہ جو سانسوں کی رسد ہے، حد ہے
جس طرف سے بھی ملاوٹ کی رسد ہے رد ہےایک رتی بھی اگر خواہش بد ہے رد ہے
یوں تو احباب کی تعداد زیادہ ہے مگراتنی مشکل میں رسد ہے نہ مدد ہے حد ہے
چلے گا کس طرح سے کاروبار شوق اس صورترسد کچھ بھی نہیں ہے اور طلب گاری زیادہ ہے
مرثیہ عربی لفظ "رثا " سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے مرنے والوں پر ماتم کرنا اور ان کی فضیلت بیان کرنا۔ اردو میں، یہ صنف زیادہ تر امام حسین علیہ السلام کی تعریف اور کربلا کے سانحے کے بیان کے لیے مخصوص ہے۔
रसाرَسا
فارسی
زمین ؛ پاتال ؛ زبان ، جیبھ ؛ ایک خیالی دریا جس کے بارے میں فرض کیا گیا ہے کہ وہ زمین اور فضا کے گرد بہتا ہے ؛ انگور کی بیل ، انگور.
रसाईرَسائی
پہنچنے یا باریاب ہونے کا عمل یا کیفیت، پہنچ، باریابی، گزر
रसाँرساں
پہنچا ہوا، پہنچنے والا
रसाओرَساؤ
ہندی
(کسی بات کے) رَس بَس جانے، راسخ اور دلنشیں ہونے کی کیفیت، عام طور سے اثر پذیر ہونے کا عمل، مقبولیتِ عام
پاکستان میں گندم کی پیداوار
حسین محی الدین قادری
معاشیات
مجموعہ احکام رسد
نا معلوم ایڈیٹر
اشاریہ
تیرے آنے کا انتظار رہا
غزل
ہپناٹزم کیا ہے؟
رشید حسین
طب
پرتھی راج راسا
محمود خان شیرانی
رزمیہ
ادب کا اسلامی تناظر
شاہ رشاد عثمانی
مقالات/مضامین
رسائی
جوگندر پال
نصابی کتاب
خیالات رنگین
کلیات
کلیات رسا چغتائی
دار ورسن کی آزمائش
نکولائی آستروسکی
ناول
مرآۃ السلاطین (ترجمہ سیرالمتاخرین)
تاریخ
شہر نارسا
طاہر حنفی
مجموعہ
رثائی ادب میں ہندوؤں کا حصہ
جعفر حسین خاں جونپور
دار و رسن کی آزمائش
اردو رسم الخط
سید محمد سلیمان
ہیچ آفت نرسد گوشۂ تنہائی رادشت غربت میں میں یہ سونچ کے روپوش رہا
رسد آتی نہیں دانشؔ کبھی جنگ مقدر میںبشر تنہا ہی لڑتا ہے کوئی لشکر نہیں ہوتا
مخمورؔ یہ دنیا وہ رسد گاہ اجل ہےزندہ ہے یہاں کوئی تو مرنے کے لیے ہے
زمیں والو رصد گاہ زماں سے دیکھتے رہناہمارے عکس نوری سال کے جھلمل سے پہنچیں گے
آنکھوں کو تیری دید میسر نہیں مگردل جنگ کر رہا ہے رسد کے بغیر بھی
چاہے رسد کے راستے مسدود تھے بہتجتنا بڑھا محاصرہ پختہ ہوا حصار
اس باب رسد سے رزق تقدیرلے آئے جو کچھ گرا پڑا تھا
ہر سفلہ را زبان و بیان تو کے رسدآرے توئی فغانی و بابائے شاعری
کسی بھی نعمت سے کم نہیں ہیںلہٰذا ان پر بھی اب اصول طلب رسد کا نفاذ ہوگا
ہم سے یہ کیا ناخوش و قائمؔ سے خوشجو ہو میاں حصہ رسد چاہئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books