aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rashe"
عادل اسیر دہلوی
1959 - 2014
شاعر
رشید احمد صدیقی
1892 - 1977
مصنف
رشید لکھنوی
1847 - 1918
عادل رشید
born.1967
رشید جہاں
1905 - 1952
رشید حسرت
born.1962
رشید حسن خاں
1925 - 2006
رشید قیصرانی
1930 - 2010
رشید رامپوری
1892 - 1964
رشید کوثر فاروقی
1933 - 2007
رشید امجد
1940 - 2021
عبدالرشید
died.2019
میر علی اوسط رشک
1799 - 1867
ارشد کاکوی
1928 - 1963
رشید افروز
born.1945
ہے وادئ غم وہ کہ گر آ جائیں ادھر خضررعشے سے کرے ہاتھ میں حضرت کے عصا رقص
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تورسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ
خموشی سے ادا ہو رسم دوریکوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
نہ مدتوں جدا رہےنہ ساتھ صبح و شام ہو
ہم جیتے جی مصروف رہےکچھ عشق کیا کچھ کام کیا
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
شاعری پڑھتے ہوئے جو ایک بنیادی بات ذہن میں رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ تخلیقی زبان لفظ کواس کے معنی اوراس سے وابستہ عمومی تصورسے بہت آگے لے جاتی ہے ۔ آسمان کلاسیکی شاعری کا ایک بنیادی استعارہ ہے اوراس استعارے کے اردگرد پھیلی ہوئی تصورات کی دنیا بھی آسمان کےعمومی تصورسے بہت مختلف ہے ۔ عشق کے باب میں آسمان ایک مضبوط کردار کے طورپرسامنے آتا ہے ۔ عاشق کے خلاف ساری چالیں وہی چلتا ہے اوراس پر ہونے والے سارے ظلم وستم اسی کی کارکردگی کا نتیجہ ہیں ۔ اسی لئےعاشق اسی کی طرف ایک نظرکرم کی امید لئےدیکھتا رہتا ہے ۔ یہ ایک چھوٹا سا انتخاب ہم آپ کیلئے پیش کررہے ہیں ۔
रहे رَہے
رہا کی مغیّرہ حالت، تراکیب میں مستعمل
रखे رکھے
रक्खे رکّھے
رکھنا سے مشتق، تراکیب میں مستعمل
रस्ते رَسْتے
۱. رستہ (رک) کی جمع اور مغّیرہ حالت (تراکیب میں مستعمل)
فارسی
اردو املا
لسانیات
آر۔ پروگرامنگ ایک تعارف
ثنا رشید
سائنس
تدوین تحقیق روایت
تحقیق و تنقید
جو میں نے دیکھا
راؤ عبدالرشید
انٹرویو
انشا اور تلفظ
زبان و ادب
آشفتہ بیانی میری
خود نوشت
رشک قمر
قمر جلالوی
شاعری
میرا جی شخصیت اور فن
مونوگراف
یہ چراغ ہے تو جلا رہے
سلیم کوثر
گنجہائے گرانمایہ
خاکے/ قلمی چہرے
سلطان محمود غزنوی
مبین رشید
سوانح حیات
آپ بیتی رشید احمد صدیقی
سید معین الرحمٰن
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
محمد بدیع الزماں
تمنا بے تاب
رشید احمد صدیقی کے اسلوب کا تجزیاتی مطالعہ
خواجہ محمد اکرام الدین
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوںاگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہےجسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی
خوش رہے تو کہ زندگی اپنیعمر بھر کی امیدواری ہے
تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو از راہ لحاظحال دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہوسامنے پھر وہ بے نقاب آئے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گےصرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کوکہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں
ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیےہم ہنس دئیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا
بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھی
تم اتنا جو مسکرا رہے ہوکیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو
تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہےتجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی
جس پہ پہلے بھی کئی عہد وفا ٹوٹے ہیںاسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں
راہ دور عشق میں روتا ہے کیاآگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books