aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rifaah"
رشبھ شرما
born.2001
شاعر
رفعت سلطان
آمنہ روشنی رشا
رفعت سروش
1926 - 2008
رفعت شمیم
رفعت ناہید سجاد
born.1954
مصنف
رفعت زمانی بیگم عصمت
1907 - 1987
مطبوعہ رفاہ عام اسٹیم پریس، لاہور
ناشر
خلش رفاعی
1928 - 1978
نسیم رفعت گوالیاری
born.1930
ریحان اعظمی
خواجہ رفعت حسین نیر
born.1946
ڈاکٹر احمر رفاعی
رفعت عباس
فیاض رفعت
1940 - 2022
رفاہ عام سے رغبت ہے اور مطلب ہےانوکھی بات نرالی روش نیا ڈھب ہے
وہ تھانہ ہو شفا خانہ ہو یا پھر ڈاک خانہ ہورفاہ عام کے سارے ادارے ایک جیسے ہیں
چنے رفاہ کے گل حسن انتخاب کے ساتھشباب قوم کا چمکا ترے شباب کے ساتھ
پائیں گے دشمنان دیں اعزازقاتلوں کی رفاہ بھی ہوگی
سب سے بڑا عیب ہم میں خود غرضی کا ہے اور یہی مقدم سبب قومی ذلت اور نامہذب ہونے کا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو ضرور ہے کہ رفاہ عام کا جوش دل میں پیدا کریں اور یقین جانیں کہ خود غرضی سے تمام قوم کی اور اس...
निगाह نِگاہ
۱۔ نظر ، چتون نیز چشم ، آنکھ ۔
فارسی
निबाह نِباہ
۔ تکمیل ، پورا کرنے کا عمل ، تسلسل ، تعلقات کا تسلسل ۔
'इरफ़ान عِرْفان
شناخت، پہچان، آگہی، واقفیت، خدائے تعالیٰ کی معرفت، خدا شناسی
عربی
रिफ़ादा رِفادَہ
مکّے کی پیداوار باہر لے جا کر حاجیوں کے لیے سامانِ غذا خرید لانے کا منصب اور ذِمہ داری.
رفاہ المسلمین
نامعلوم مصنف
مولوی سعیدالدین بدایونی
شمارہ نمبر۔015
رفاہ عام
ممتاز مفتی
ریحان حسن
تنقید
اردو تنقید پر عالمی اثرات
رفعت اختر
آداب شاعری
عالی رفاعی حیدرآبادی
شاعری تنقید
آل انڈیا ریڈیو اور اردو
اور بستی نہیں یہ دلّی ہے
خود نوشت
ہائیکو: تنقیدی جائزہ
پتہ پتہ بوٹا بوٹا
اردو افسانے کے ابتدائی نقوش
فکشن تنقید
آداب شاعری
حرف حرف بمبئی
خاكه
اردو افسانے کا پس منظر
مکمل ومدلل مسائل امامت
محمد رفعت قاسمی
اسلامیات
خدا پرست سمجھتے ہیں فرض خدمت خلقرفاہ عام میں کوشش مدام کرتے ہیں
رفاہ عام ہی تیرا تھا جب کہ نصب العینلقب نہ کیوں ترا خیر الانام ہو جائے
قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے
غلامی کو برکت سمجھنے لگیںاسیروں کو ایسی رہائی نہ دے
رہائی کی کوئی صورت نہیں ہےمگر ہاں منت صیاد کر کے
مجھ کو یہ ہوش ہی نہ تھا تو مرے بازوؤں میں ہےیعنی تجھے ابھی تلک میں نے رہا نہیں کیا
کھول کر بند قبا گل کے ہواآج خوشبو کو رہا کرتی ہے
آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میںہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں
اشکوں کو آرزوئے رہائی ہے روئیےآنکھوں کی اب اسی میں بھلائی ہے روئیے
پھر وہیں لوٹ کے جانا ہوگایار نے کیسی رہائی دی ہے
نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبثہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے
پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاددیکھنا اڑا دے گا پھر خبر رہائی کی
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینارفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینا
پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کوندست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
اے موت مجھے تو نے مصیبت سے نکالاصیاد سمجھتا تھا رہا ہو نہیں سکتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books