aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rihaa"
آمنہ روشنی رشا
شاعر
سلیم رضا ریوا
born.1975
ریحان اعظمی
مصنف
ابوریحان البیرونیٍ
ظہیر عباس ریحان
مترجم
رگھوناتھ رینہ
مدیر
جگموہن ناتھ رینہ شوق
1863 - 1948
ریحان حسن
شاہ رضا حسین
ریحان اکیڈمی انٹرنیشنل
ناشر
ریتا گانگولی
فن کار
قیصر ریحان
بملا رینہ
چاند نرائن رینہ
Rita Shahani
مجھ کو یہ ہوش ہی نہ تھا تو مرے بازوؤں میں ہےیعنی تجھے ابھی تلک میں نے رہا نہیں کیا
کھول کر بند قبا گل کے ہواآج خوشبو کو رہا کرتی ہے
اے موت مجھے تو نے مصیبت سے نکالاصیاد سمجھتا تھا رہا ہو نہیں سکتا
عجب یہ زندگی کی قید ہے دنیا کا ہر انساںرہائی مانگتا ہے اور رہا ہونے سے ڈرتا ہے
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں
لفظ مرثیہ عربی لفظ ’رثا‘ سے مشتق جس کے معنی ہیں کسی کی وفات پر رنج و غم ظاہر کرنااور رونا۔ اردو شاعری کی ایک صنف کی حیثیت سے کسی بھی عزیز کی وفات پر اظہار غم سے |متعلق نظم کو مرثیہ کہا جا سکتا ہے
रहा رہا
رہنا کا ماضی، تراکیب میں مستعمل
ہندی
रहा رَحیٰ
چکّی ، آسیا ، چکّی کا پاٹ.
عربی
रिहा رِہا
کسی مصیبت یا قید وغیرہ سے چھوٹا ہوا، نجات یافتہ، آزاد
فارسی
ऐसा اَیسا
(کسی چیز کی) مثل یا مانند، سا
سنسکرت
ردائے خواب
محسن نقوی
رباعی
ممتاز مفتی
تنقید
جو یاد رہا
عابد سہیل
خود نوشت
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
اعزاز احمد آذر
سوانح حیات
اور نیل بہتا رہا
عنایت اللہ التمش
تاریخی
تیرے آنے کا انتظار رہا
رسا چغتائی
غزل
بغداد جلتا رہا
الماس ایم۔اے
موسم بدل رہا ہے
ف س اعجاز
ہندو دھرم
خواب سے تعبیر تک
مجموعہ
وقت مجھے لکھ رہا ہے
سیدہ نفیس بانو شمع
جب کشمیر جل رہا تھا
کشمیری لال ذاکر
افسانہ
ردائے سخن
عارف اعظمی
قلم توڑ دیا
آنکھ سے آنسو نکل جائیں گے اور ٹہنی سے پھولوقت بدلے گا تو سب قیدی رہا ہو جائیں گے
جب کسی ایک کو رہا کیا جائےسب اسیروں سے مشورہ کیا جائے
مجھے قید خوف سے رہا کرومیں اپنے درد کی ننگی دھوپ سے
آئنہ اب جدا نہیں کرتاقید میں ہوں رہا نہیں کرتا
میں اپنے ہونے کی تکمیل چاہتا ہوں سکھیسو اب بدن کی حراست سے کر رہا مجھ کو
دل مضطرؔ کو قید دام گیسوئے پریشاں سےرہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے
میں نے سدا کے لیےتم کو رہا کر دیا
اژدہا بن کے رگ و پے کو جکڑ لیتا ہےاتنا آسان نہیں غم سے رہا ہو جانا
میری ہی زمزمہ سنجی سے چمن تھا آبادکیا صیاد نے اک اک کو رہا میرے بعد
رہا ہوئے پہ عجب حال ہے اسیروں کاکہ اب وہ اپنے پروں کو تلاش کرتے ہیں
رہا کر دے قفس کی قید سے گھایل پرندے کوکسی کے درد کو اس دل میں کتنے سال پالے گا
شغل صیاد یہی صبح و مسا ہوتا ہےقید ہوتا ہے کوئی کوئی رہا ہوتا ہے
وحشت آتش دل سے شب تنہائی میںصورت دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے
عجیب قید تھی جس میں بہت خوشی تھی مجھےاب اشک تھمتے نہیں ہیں یہ کیا رہا ہوا میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books