aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sa.nvaare"
جامعہ عثمانیہ سرکار عالی، حیدرآباد، دکن
ناشر
عبدالقادر سروری
1906 - 1971
مصنف
جامعہ عثمانیہ، سرکار عالی، حیدرآباد
روپ سانورے نولکھی
مطبوعۂ دارالطبع سرکار عالی
سید سعید الدین رفاعی سروری
پنڈی داس سروری
محکمہ نشریات لاسکی سرکار عالی
دفتر نظامت طبابت یونانی سرکار عالی
الشیخ عبداللہ بن ابراہیم حمدوہ السناری المکی
مطبع محکمہ نظامت و طبابت سرکارعالی، حیدرآباد
مدیر
سید محمد سبطین سروری
مطبع مجلس وضع قوانین سرکار عالی
مجلس تعلیم ثانوی سرکار عالی
باہو ولد بایزید سروری قادری
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھےہم سے جتنے سخن تمہارے تھے
اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلیہے ذوقؔ کی عظمت کہ دیے مجھ کو سہارے
باپ لرزاں ہے کہ پہنچی نہیں بارات اب تکاور ہم جولیاں دلہن کو سنوارے جائیں
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناںکب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارےمرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی
सँवारा سَنوْارا
(سلائی) سن کے پودے کا چھال اُترا ہوا ڈن٘ٹھل ، سُٹھیرا .
सँवर سَنوَر
سن٘وار جانا، سجاوٹ، آرائش، سن٘ورنا
अंगारे اَنگارے
انگارا جس کی یہ جمع یا مغیرہ حالت ہے
سنسکرت
सँवार سَنوار
(عور) بناؤ، درستی، اصلاح، (مجازاً) رحمت، مہربانی (بگاڑ اور مار کے بالمقابل)
سنسکرت, ہندی
کچھ تو ہنسئے
اردو مثنوی کا ارتقاء
مثنوی تنقید
جدید اردو شاعری
شاعری تنقید
زبان اور علم زبان
زبان
سیرت سرور عالم
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
اسلامیات
غالب
ٹی این راز
شرح
کشمیر میں فارسی ادب کی تاریخ
تاریخ ادب
کردار اور افسانہ
فکشن تنقید
سفر نصیب
مختار مسعود
سفر نامہ
سفر مینا
اشفاق احمد
کشمیر میں اردو
تنقید
تذکرۃ السادات
محبوب شاہ
تاریخ اسلام
اردو کی ادبی تاریخ
تاریخ
دل برباد یہ خیال رہےاس نے گیسو نہیں سنوارے ہیں
کام بن جائے اگر زلف جنوں بن جائےاس لیے اس کو سنوارو کہ سنوارے جاؤ
بگاڑ پر ہے جو تنقید سب بجا لیکنتمہارے حصے کے جو کام تھے سنوارے بھی
کی یہ دیوار بلند، اور بلند، اور بلندبام و در اور، ذرا اور سنوارے ہم نے
یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارےتابندہ و پایندہ ہیں ذروں کے سہارے
اے سہاروں کی زندگی والوکتنے انسان بے سہارے ہیں
ایک موہوم تمنا کے سہارے نکلےچاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے
سنوارے جا رہے ہیں ہم الجھتی جاتی ہیں زلفیںتم اپنے ذمہ لو اب یہ بکھیڑا ہم نہیں لیں گے
ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسےان سرابوں پہ کوئی عمر گزارے کیسے
بال اپنے اس پری رو نے سنوارے رات بھرسانپ لوٹے سیکڑوں دل پر ہمارے رات بھر
سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئےکھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی
اے جاں ہے تیری زلف پریشاں کا حسن اورحوروں کے بال ہیں جو سنوارے ہوئے تو کیا
ایک ذرا سی بھول پہ ہم کو اتنا تو بد نام نہ کرہم نے اپنے گھاؤ چھپا کر تیرے کاج سنوارے ہیں
اب کیا سوچنا ایسی ویسی باتوں پہان ہاتھوں نے بال سنوارے کس کے ہیں
جئیں گے جو وہ دیکھیں گے بہاریں زلف جاناں کیسنوارے جائیں گے گیسوئے دوراں ہم نہیں ہوں گے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books