aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sagiir"
صغیر ملال
1951 - 1992
شاعر
ساحر لدھیانوی
1921 - 1980
احمد صغیر
born.1990
ساغر صدیقی
1928 - 1974
عشرت قادری
born.1926
احمد صغیر صدیقی
born.1938
ساغر خیامی
1936 - 2008
ذیشان ساحل
1961 - 2008
born.1963
مصنف
عاقب صابر
born.1994
ساحر ہوشیار پوری
1913 - 1994
صابر ظفر
born.1949
صغیر احمد صغیر
born.1967
اے آر ساحل علیگ
born.1992
ساغر نظامی
1905 - 1984
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتےشہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
زمانے بھر سے الجھتے ہیں جس کی جانب سےاکیلے پن میں اسے ہم بھی کیا نہیں کہتے
زخم اتنے ہیں بدن پر کہ کہیں درد نہیںہم بھی پتھراؤ میں پتھر کے ہوئے جاتے ہیں
ہے ایک عمر سے خواہش کہ دور جا کے کہیںمیں خود کو اجنبی لوگوں کے درمیاں دیکھوں
نکل گئے تھے جو صحرا میں اپنے اتنی دوروہ لوگ کون سے سورج میں جل رہے ہوں گے
اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار
سادگی زندگی گزارنے کے عمل میں اختیار کیا جانے والا ایک رویہ ہے ۔ جس کے تحت انسان زندگی کے فطری پن کو باقی رکھتا ہے اور اس کی غیر ضروری آسائشوں، رونقوں اور چکاچوند کا شکار نہیں ہوتا ۔ شعری اظہارمیں سادگی کے اس تصور کے علاوہ اس کی اور بھی کئی جہتیں ہیں ۔ یہ سادگی محبوب کی ایک صفت کے طور پر بھی آئی ہے کہ محبوب بڑے سے بڑا ظلم بڑی معصومیت اور سادگی کے ساتھ کر جاتا ہے اور خود سے بھی اس کا ذرا احساس نہیں ہوتا ہے ۔ سادگی کے اور بھی کئی پہلو ہیں ۔ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے ۔
बग़ैर بَغَیْر
بجز، سوا، علاوہ، بن، بِنا، بلا
عربی, فارسی
सग़ीर صَغِیر
ادنیٰ، کم درجہ، حقیر
عربی
फ़क़ीर فَقِیر
گدا، بھکاری، بھک منگا
जागीर جاگِیر
قطعۂ زمین یا گاؤں جو بادشاہ یا حکومت کی طرف سے کسی کو اس کی خدمت کے عوض میں دیا جائے
فارسی
اردو ناول کا تنقیدی جائزہ
ناول تنقید
اردو افسانہ تعریف، تارتخ اور تنقید
صغیر افراہیم
افسانہ تنقید
تانیثیت اور اردو ادب روایت مسائل اور امکانات
سیما صغیر
تنقید
اردو افسانے کا تنقیدی جائزہ
فکشن تنقید
اردو فکشن : تنقید اور تجزیہ
پریم چند کی تخلیقات کا معروضی مطالعہ
اردو افسانہ ترقی پسند تحریک سے قبل
اردو ناول تعریف، تاریخ اور تجزیہ
بہار میں اردو فکشن
برصغیر میں اردو ناول
خالد اشرف
برصغیر میں مسلم فکر کا ارتقاء
قاضی جاوید
انگلیوں پر گنتی کا زمانہ
افسانہ
آفرینش
ناول
کاروباری تنظیم
مرزا صغیر احمد
معاشیات
غزلیات غالب کا عروضی تجزیہ
صغیر النساء بیگم
برائے نام سہی سائباں ضروری ہےزمین کے لیے اک آسماں ضروری ہے
کیوں ہر عروج کو یہاں آخر زوال ہےسوچیں اگر تو صرف یہی اک سوال ہے
ضرورت اس کی ہمیں ہے مگر یہ دھیان رہےکہاں وہ غیر ضروری کہاں ضروری ہے
جسے سناؤ گے پہلے ہی سن چکا ہوگامجھے یقین ہے یہ ایسا واقعہ ہوگا
تعجب ان کو ہے کیوں میری خود کلامی پرہر آدمی کا کوئی راز داں ضروری ہے
کب سے میں سفر میں ہوں مگر یہ نہیں معلومآنے میں لگا ہوں کہ میں جانے میں لگا ہوں
نہ جانے کیوں سدا ہوتا ہے ایک سا انجامہم ایک سی تو کہانی سدا نہیں کہتے
دل کا کھونا بہت ضروری ہےعشق ہونا بہت ضروری ہے
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلےپھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
کیسے جانوں کہ جہاں خواب نما ہوتا ہےجبکہ ہر شخص یہاں آبلہ پا ہوتا ہے
اس کی جانب یوں موڑ دی آنکھیںاس کے چہرہ پہ چھوڑ دی آنکھیں
سن رہے ہیں سبھی توجہ سےتیری باتیں جو کر رہا ہوں میں
خدایا اپنے کن کی لاج رکھ لےترا شہکار ضائع ہو رہا ہے
روشنی ہے کسی کے ہونے سےورنہ بنیاد تو اندھیرا تھا
میں ڈھونڈ لوں اگر اس کا کوئی نشاں دیکھوںبلند ہوتا فضا میں کہیں دھواں دیکھوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books