Sagheer Malal's Photo'

صغیر ملال

1951 - 1992 | کراچی, پاکستان

غزل 19

اشعار 16

ہے ایک عمر سے خواہش کہ دور جا کے کہیں

میں خود کو اجنبی لوگوں کے درمیاں دیکھوں

زمانے بھر سے الجھتے ہیں جس کی جانب سے

اکیلے پن میں اسے ہم بھی کیا نہیں کہتے

ضرورت اس کی ہمیں ہے مگر یہ دھیان رہے

کہاں وہ غیر ضروری کہاں ضروری ہے

کتاب 2

آفرینش

 

1985

انگلیوں پر گنتی کا زمانہ

 

1983

 

تصویری شاعری 1

جس کو طے کر نہ سکے آدمی صحرا ہے وہی اور آخر مرے رستے میں بھی آیا ہے وہی یہ الگ بات کہ ہم رات کو ہی دیکھ سکیں ورنہ دن کو بھی ستاروں کا تماشا ہے وہی اپنے موسم میں پسند آیا ہے کوئی چہرہ ورنہ موسم تو بدلتے رہے چہرہ ہے وہی ایک لمحے میں زمانہ ہوا تخلیق ملالؔ وہی لمحہ ہے یہاں اور زمانہ ہے وہی

 

"کراچی" کے مزید شعرا

  • انور شعور انور شعور
  • محشر بدایونی محشر بدایونی
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • پیرزادہ قاسم پیرزادہ قاسم
  • قمر جلالوی قمر جلالوی
  • عبید اللہ علیم عبید اللہ علیم