aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sail-e-ravaan-e-umr"
مکتبہ سیل نو، حیدرآباد
ناشر
آلِ عمر
born.1995
شاعر
ایم۔ اے۔ رمن
مدیر
مطبع مفید عام، آگرہ
رفیق عام پریس، لاہور
مطبع مفید عام، لاہور
مفید عام پریس، سیالکوٹ
سعید اے شیخ
رفاہ عام پریس-لاہور
منظور عام کتب خانہ، پشاور
منظورعام برقی پریس، لاہور
فیض عام، بینگلور
مطبوعہ رفاہ عام اسٹیم پریس، لاہور
فیض عام پریس، میرٹھ
رفاہ عام، سیالکوٹ
سیل روان عمر کے آگے ٹھہر سکا نہ کچھوقت نے مہر حسن کو رو بہ زوال کر دیا
کہاں جاتا ہے یہ سیل روان عمر گم گشتہبہے جاتے ہیں روز و شب کدھر آہستہ آہستہ
چشم سیل رواں سے اٹھے گادرد پھر خاک جاں سے اٹھے گا
مثیل سیل رواں دشت و جو میں گزری ہےحیات ہجر کے طوق گلو میں گزری ہے
آنکھ سے نکلا تو اک سیل رواں ہو جائے گاورنہ احساس محبت رائیگاں ہو جائے گا
ایسے اشعار کا مجموعہ جس میں کسی خیال کو تسلسل سے پیش کیا جائے اسے قطعہ کہتے ہیں ۔یہ دو شعروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں میں باہمی ربط ضروری ہوتا ہے اگر کسی غزل میں ایک سے زیادہ قطعات موجود ہوں تو اس غزل کو قطعہ بند غزل کہا جاتا ہے ۔
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
عید ایک تہوار ہے اس موقعے پر لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن عاشق کیلئے خوشی کا یہ موقع بھی ایک دوسری ہی صورت میں وارد ہوتا ہے ۔ محبوب کے ہجر میں اس کیلئے یہ خوشی اور زیادہ دکھ بھری ہوجاتی ہے ۔ کبھی وہ عید کا چاند دیکھ کر اس میں محبوب کے چہرے کی تلاش کرتا ہے اور کبھی سب کو خوش دیکھ کر محبوب سے فراق کی بد نصیبی پر روتا ہے ۔ عید پر کہی جانے والی شاعری میں اور بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب پڑھئے ۔
008
لطیف احمد فاروقی
Mar 1949سیل رواں
شمارہ نمبر۔007
سیل رواں
ذکی احمد
مجموعہ
آب روان کبیر
مشرف عالم ذوقی
افسانہ تنقید
دیدۂ آب رواں
خالد بشیر احمد
سر آب رواں
سید انجم جعفری
لوح آب رواں
فاروق ارگلی
سیل آتش
سید فضل محمد
سال رواں 1959 کے اضافے
نا معلوم ایڈیٹر
سیل جنوں
سراج شولا پوری
سیل عقیدت
امن لکھنوی
سیل عشق
عرفان ترابی
یاقوت رواں
جگدیش مہتہ درد
سیل آتش
عزیز عظیم آبادی
رباعی
خواب رواں
نور و نکہت کا جیسے ہو سیل رواںجیسے اخلاص و الفت کا اک کارواں
گیا کہ سیل رواں کا بہاؤ ایسا تھاوہ ایک خواب جو کاغذ کی ناؤ ایسا تھا
رکا نہ غم کا جو سیل رواں تو کیا ہوگااٹھا بدن سے اگرچہ دھواں تو کیا ہوگا
موجۂ ریگ روان غم میں بہہ کے دیکھنامفلسی میں دوستوں کے ساتھ رہ کے دیکھنا
وقت کا سیل رواں شام و سحر ہیں ہم لوگجس کی منزل نہیں کوئی وہ سفر ہیں ہم لوگ
اے وطن پاک وطن روح روان احراراے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہار
روح روان نغمہ تم نغموں کا سوز و ساز میںجان خیال و خواب تم جان جہان ناز میں
مرا مضموں سوار توسن طبع رواں ہو کرزمین شعر پر پھرتا ہے گویا آسماں ہو کر
وہ چاندنی کا موسم وہ بے خودی کا عالموہ نور کا سمندر ریگ روان صحرا
یوں بھی ہم معرکۂ عمر رواں سے گزرےاک جہاں زیر کیا ایک جہاں سے گزرے
اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیاجان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا
عکس زلف رواں نہیں جاتادل سے غم کا دھواں نہیں جاتا
کس کے روکے رک سکا سیل روان زندگیپھول کھلتے ہی رہے بجلی چمکتی ہی رہی
فسون چشمۂ سیل رواں کی عمر درازان آنسوؤں میں سمندر رکے رکے تو نہ تھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books