aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "samra"
سارا شگفتہ
1954 - 1984
شاعر
مریم ناز
born.1988
سائرہ اقبال
born.1991
سمیعہ نسیم
دکتر یداللہ ثمرہ
مصنف
سارہ سلام
born.2005
سارہ خان
born.1983
ادیب سمیع چمن
تاجور سامری
1921 - 1980
سمیعہ ناز
ڈاکٹر خورشید سمیع
مطبع خاص سحر سامری
ناشر
روحانی سمراٹ بیر
سمیرہ داؤد
سمنا آفسٹ پریس لکھنؤ
یہ شاخسانۂ وہم و گمان تھا شایدکجا وہ ثمرۂ باغ طلب کجا مرے لب
ہم راہ رقیبوں کے تجھے باغ میں سن کردل دینے کا ثمرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ہمرا اور ثمرہ نے سالگرہ پر ایمن کیخوب چھڑائی آتش بازی خوب اچھالے پھول
حیف خرگوش رہ گیا سوتاثمرہ غفلت کا اور کیا ہوتا
نہ پنکھا ہے نہ ٹٹی ہے نہ کمرہذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہ
اپنے غیر روایتی خیالات کے لئے معروف پاکستانی شاعرہ ۔ کم عمری میں خود کشی کی۔
اس انتخاب میں سارہ شگفتہ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی پانچ نظموں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں زندگی کی ناہمواریاں، انسانی نفسیات اور مختلف النوع جذبات و احساسات انفرادیت سے اجتماعیت میں ڈھلتے نظر آتے ہیں اور جو ہر پڑھنے والے کے ذہن پر اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں
شاعری میں عشق کی کہانی پڑھتے ہوئے آپ بار بار صحرا سے گزرے ہوں گے ۔ یہ صحرا ہی عاشق کی وحشتوں اور اس کی جنوں کاری کا محل وقوع ہے ۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں عشق کا پودا برگ وبار لاتا ہے ۔ صحرا پر خوبصورت شاعری کا یہ انتخاب پڑھئے ۔
सारा سارَہ
ایک قسم کی چادر، پردہ، آڑ، رشوت
فارسی
सारा سارا
سب، جملہ، تمام، کل، سالم
سنسکرت, فارسی
समरा ثَمْرا
آپ نے یاس کو تقدیر سے منسوب کیا ہم نے خبطِ نگہ لطف کا ثمرا جانا
समरा ثَمْرَہ
پھل، میوہ (نیز بطور تشبیہ)
عربی
آموزش زبان فارسی دورۂ مقدماتی
لسانیات
آموزش زبان فارسی
زبان
آموزش زبان فارسی
شجرہ با ثمرہ سید احمد صاحب
ولایت علی صادقپوری عظیم آبادی
نقشبندیہ
ثمرہ نیک و بدسلوک
بی امیر جان
تاریخی
مثنوی ثمرۂ عشق
ابو محمد عبد الغفور خان
مثنوی
ثمرہ زندگی
شاد عظیم آبادی
اخلاقیات
آموز زبان فارسی
ثمرۂ فصاحت
نامعلوم مصنف
مطبوعات منشی نول کشور
منشی سید جمیل احمد
آموزش زبان فارسی راہنمای تدریس
سچی الفت
منشی محمد خان
ثمرہ دیانت
قاضی عزیز الدین
ثمرہ صداقت
قوی امروہوی
جو لگے اب کاٹنے اخلاص کےکیا یہی تھا پیار کا ثمرا سجن
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایااپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
یہ بیٹیوں کی دعاؤں کا نیک ثمرہ ہےکٹی ہے عمر بدن میں تھکان کچھ بھی نہیں
مسی پر بھی داغوں کا ثمرہ نہ پایاچراغ اک لحد پر جلایا تو ہوتا
مری عمر دو روزہ بیکسی کے ساتھ کٹتی ہےنہ اپنوں سے نہ غیروں سے ملا ثمرہ ریاضت کا
اس کو آدم ہی کی تقصیر کا ثمرہ کہئےورنہ جنت کی یہ جاگیر کہاں سے آئی
ایراد کر نہ پڑھ کے مرا خط کہ یہ تمامبے ربطیاں ہیں ثمرۂ ہنگام اشتیاق
یہ جان ناتواں بھی ہے کیا ثمرۂ حیاترکھ دی گئی ہے کاٹ کے اک قاش کی طرح
پھر کسی حرف ہدایت کی طرح بوجھل ساسمٹے سمٹے سے ثوابوں کا یہ ثمرہ کیا ہے
ثمرہ ترقیوں کا نہ پائے ہیں لوگ چندجو قوم کے لئے جئے سب کچھ نثار کر
کیسی الٹی مت ہے ثمرہیہ گندی عادت ہے ثمرہ
چھوٹی حمرا کھنڈوا کیسے جا سکتی ہےجا سکتی ہے ثمرہ کام بنا سکتی ہے
ماں اور باپ کی برسوں کی محنت کا ثمرہبرسوں کی کاوش کا نتیجہ ہوتے ہیں
عدنان ایمن ثمرہ فیضیباہر جا کر کھیلو نا
حمراؔ ثمرہؔ ناچ رہی تھیںفیضیؔ مار رہے تھے چھکے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books