aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "samundar"
ارمان رامپوری
born.1924
مصنف
شیام سندر نندا نور
born.1950
شاعر
آنند لہر
1951 - 2018
لالہ سندر لال نظر
سادھو سندر سنگھ
شیام سندر شرما
مدیر
لالہ سندر داس
ناشر
ایس۔ کے سندر
موہن سندر راجن
سندر لال
سندر شیام پرویز
شام سندر صحرائی
پنڈت سندر لال
1886 - 1983
آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھاکشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھناجہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا
اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میںبان تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا
سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کوہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے
کوئی اپنی ہی نظر سے تو ہمیں دیکھے گاایک قطرے کو سمندر نظر آئیں کیسے
سمندر کو موضوع بنانے والی شاعری سمندر کی طرح ہی پھیلی ہوئی ہے اور الگ الگ ڈائمینشن رکھتی ہے ۔ سمندر ، اس کی تیزوتند موجیں خوف کی علامت بھی ہیں اور اس کی صاف وشفاف فضا ، ساحل کا سکون اوربیکرانی، خوشی کا استعارہ بھی ۔ آپ اس شاعری میں دیکھیں گے کہ کس طرح عام سا نظر آنے والا سمندر معنی کے کس بڑے سلسلے سے جڑ گیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور لطف لیجئے ۔
समुंदरسَمُنْدَر
سنسکرت
بحر، ساگر
समुंदरीسَمُنْدَری
سمندر سے منسوب یا متعلق، سمندر کا، بحری، جو سمندر میں پیدا ہوا ہو
समूदाسَمُودا
تمام ، سارا ، کُل .
समुद्दाسَمُدّا
سَمُوچا ، تمام ، سارا ؛ پورا ، مکمل ، کامل ، ثابت . جیسے ؛ سمدّی چھالیا ، سمدّا روپیہ یا گھر وغیرہ
آنگن میں سمندر
لیاقت علی عاصم
ساحل اور سمندر
سید احتشام حسین
ڈائری
سمندر دور ہے
کرشن چندر
افسانہ
اجنبی سمندر
بشر نواز
مجموعہ
بوند اور سمندر
امرت لال ناگر
ناول
بوند سمندر
اسلم بدر
غزل
خواب سمندر
عزیز نبیل
سمندر ہے درمیاں
ولاء جمال العسیلی
خواتین کی تحریریں
سمندر کی کہانی
مصطفیٰ حسن زیدی
سائنس
آگے سمندر ہے
انتظار حسین
صراحی میں سمندر
سمندر کا بیٹا
قمر علی عباسی
ادب اطفال
سمندر
صہبا اختر
سوچ کا سمندر
شوق جالندھری
میرے اندر ایک سمندر
پریم واربرٹنی
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتاآنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھیکوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گااسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوتجس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتےساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیںصحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گامیں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
آنسو کو کبھی اوس کا قطرہ نہ سمجھناایسا تمہیں چاہت کا سمندر نہ ملے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books