aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sarhade.n"
شہرام سرمدی
born.1975
شاعر
ساگر سرحدی
1934 - 2021
مصنف
مرزا محمود سرحدی
راحت سرحدی
سیما شرما سرحد
ضیا سرحدی
نگینہ سرحدی
فیض سرحدی
born.1924
مدیر
بیدل سرحدی
1929 - 2003
راز سرحدی
سعید سرحدی
امان اللہ خان ارمان سرحدی
خموش سرحدی
خاور خان سرحدی
سمن سرحدی
born.1922
مترجم
سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھاسوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرحایک سے ہیں وہی آنکھیں وہی چہرے وہی دل
صنعتیں پھیلتی جاتی ہیں مگر اس کے ساتھسرحدیں ٹوٹتی جاتی ہیں گلستانوں کی
امن کے پرندوں کی سرحدیں نہیں ہوتیںہم جہاں ٹھہر جائیں وہ وطن ہمارا ہے
سرحد کو موضوع بنانے والی یہ شاعری سرحد کے ذریعے کئے گئے ہر قسم کی تقسیم کو نکارتی ہے اور محبت کے ایک ایسے پیغام کو عام کرتی جو زمین کے تمام حصوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک رشتے میں جوڑتا ہے ۔ تقسیم کے بعد شعرا نے سرحد اور اس سے جنم لینے والے مسائل کو کثرت سے برتا ہے ۔ یہاں ہم ایسی شاعری کا ایک انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
جدید ادب کی سرحدیں
قمر جمیل
تنقید
اردو غزل کی سرحدیں
علیم صبا نویدی
مقالات/مضامین
شہر جاں کی سرحدیں
اسد ثنائی
مجموعہ
ٹوٹتی سرحدیں
مہر افروز
افسانہ
سرہانے میر کے
احمد جاوید
شاعری تنقید
سرزمین پوٹھوہار
کرم حیدری
سرزمین مصر میں جنگ
یوسف القعید
ناول
میرے خوابوں کی سرزمین
رئیس فاطمہ
سفرنامہ
مصر سرزمین اور باشندے
زکی محمود نجیب
ترجمہ
سرحد کے پار سورج سے پرے
ہاروکی موراکامی
صوبہ سرحد میں جنگ آزادی
جگت رام ساہنی
ادبیات سرحد
رضا ہمدانی
سرحد کے اس پار
آنند لہر
تذکرہ صوفیاء سرحد
محمد اعجاز الحق قدوسی
تذکرہ
سرحدیں روک نہ پائیں گی کبھی رشتوں کوخوشبوؤں پر نہ کبھی کوئی بھی پہرا نکلا
یہ سرحدیں تو بہت بعد میں بنیں پہلےدلوں کی طرح کشادہ زمیں بنائی گئی
آج روح اور دل ایک ظلم سے خجلیار آدمی سے مل سرحدیں اتار کر
سرحدیں وہ نہ سہی اپنی حدوں سے باہرجو بھی ممکن تھا کیا اس کے سوا کیا کرتے
وقت کی سرحدیں سمٹ جاتیںتیری دوری سے کچھ بعید نہ تھا
پناہ دینے کے لیےہمیشہ کس ملک کی سرحدیں کھلی رہتیں
سرحدیں جلوہ گہہ ناز سے جس کی نہ ملیںوہ تو اک کھیل ہوا چاک گریباں نہ ہوا
حال و ماضی کی سرحدیں ایسیزندگی پل میں رفتگاں ہو جائے
جھوٹا سماج رسم و روایات سرحدیںاب بھی ہیں راہ عشق میں دیوار کی طرح
اک دستخط سے ہو گئیں تقسیم سرحدیںاک دستخط سے عضو وطن لے لیا گیا
آج سرحد پہ خاموش توپوں کے ہونٹوں پہپپڑی کی تہ بھی چٹخ کر گری ہے
خلوص دل سے ساری سرحدیں مل جاتی ہیں نجمیؔجہاں ملتے ہیں سب رستے وہ رستہ ہم نے دیکھا ہے
کہاں جائیں گے ہم وہاں سےجہاں سرحدیں ختم ہو جائیں گی
ملک کی سرحدیں کہنے لگیں رو کر انجمؔشہر میں فوج کے دستے نہیں اچھے لگتے
سرحدیں ہو ختم ساری ختم ہو سب بھید بھاؤخوں سے میرے ایسا اک نقشہ بناتے جائیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books