سرحد پر شاعری

سرحد کو موضوع بنانے والی یہ شاعری سرحد کے ذریعے کئے گئے ہر قسم کی تقسیم کو نکارتی ہے اور محبت کے ایک ایسے پیغام کو عام کرتی جو زمین کے تمام حصوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک رشتے میں جوڑتا ہے ۔ تقسیم کے بعد شعرا نے سرحد اور اس سے جنم لینے والے مسائل کو کثرت سے برتا ہے ۔ یہاں ہم ایسی شاعری کا ایک انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔

محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی

ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے

خالد معین

اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا

جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہیں آنکھیں

نامعلوم

ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں

ہمارے خون میں گنگا بھی چناب بھی ہے

کنول ضیائی

جیسے دو ملکوں کو اک سرحد الگ کرتی ہوئی

وقت نے خط ایسا کھینچا میرے اس کے درمیاں

محسن زیدی

زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دے

نشاں تک سرحدوں کے جو مٹا دے

پروین کمار اشک

سرحدیں روک نہ پائیں گی کبھی رشتوں کو

خوشبوؤں پر نہ کبھی کوئی بھی پہرا نکلا

نامعلوم

سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا

سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا

عرفان صدیقی

روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں

ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے

شاہد ذکی

دلوں کے بیچ نہ دیوار ہے نہ سرحد ہے

دکھائی دیتے ہیں سب فاصلے نظر کے مجھے

ظفر صہبائی

شہر لاہور سے کچھ دور نہیں ہے دہلی

ایک سرحد ہے کسی وقت بھی مٹ سکتی ہے

نامعلوم