غزل 17

اشعار 11

روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں

ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے

میں آپ اپنی موت کی تیاریوں میں ہوں

میرے خلاف آپ کی سازش فضول ہے

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے

میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے

تصویری شاعری 3

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو زخم کھلتے ہیں اذیت نہیں ہوتی مجھ کو اب کوئی آئے چلا جائے میں خوش رہتا ہوں اب کسی شخص کی عادت نہیں ہوتی مجھ کو ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی پی کر جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو ہے امانت میں خیانت سو کسی کی خاطر کوئی مرتا ہے تو حیرت نہیں ہوتی مجھ کو تو جو بدلے تری تصویر بدل جاتی ہے رنگ بھرنے میں سہولت نہیں ہوتی مجھ کو اکثر اوقات میں تعبیر بتا دیتا ہوں بعض اوقات اجازت نہیں ہوتی مجھ کو اتنا مصروف ہوں جینے کی ہوس میں شاہدؔ سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی مجھ کو

 

متعلقہ شعرا

  • علی زریون علی زریون ہم عصر
  • رحمان فارس رحمان فارس ہم عصر

"سیالکوٹ" کے مزید شعرا

  • سرفراز آرش سرفراز آرش
  • ذوالفقار ذکی ذوالفقار ذکی
  • زیف ضیاء زیف ضیاء
  • چونچال سیالکوٹی چونچال سیالکوٹی
  • افتخار شاھد ابو سعد افتخار شاھد ابو سعد