aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sarmad"
سرمد صہبائی
born.1945
شاعر
نعیم سرمد
born.1992
علی سردار جعفری
1913 - 2000
علی سرمد
احمد سلمان
born.1964
بہزاد لکھنوی
1900 - 1974
سلمان اختر
born.1946
ساغر نظامی
1905 - 1984
سرمد خان
born.1994
سردار انجم
1941 - 2015
سرمد کاشانی
1590 - 1661
مصنف
شہرام سرمدی
born.1975
سردار گنڈا سنگھ مشرقی
1857 - 1909
عبدالمنان صمدی
born.1988
سلمان سعید
born.1991
کر سکتے ہیں چاہ تری اب سرمدؔ یا منصورؔملے کسی کو دار یہاں اور کھنچے کسی کی کھال
سب کی اپنی منزلیں تھیں سب کے اپنے راستےایک آوارہ پھرے ہم در بدر سب سے الگ
اس کے جانے کا یقیں تو ہے مگر الجھن میں ہوںپھول کے ہاتھوں سے یہ خوش بو جدا کیسے ہوئی
کیسی بپتا پال رکھی ہے قربت کی اور دوری کیخوشبو مار رہی ہے مجھ کو اپنی ہی کستوری کی
میں سرمد و منصور بنا ہوں تری خاطریہ بھی تری امید سے کم ہے تو مجھے کیا
ممتاز ترین ترقی پسند شاعروں میں نمایاں، نقاد، دانشور اور رسالہ ’گفتگو‘ کے مدیر، گیان پیٹھ انعام سے سرفراز، اردو شاعروں پر دستاویزی فلمیں بنائیں
سرحد کو موضوع بنانے والی یہ شاعری سرحد کے ذریعے کئے گئے ہر قسم کی تقسیم کو نکارتی ہے اور محبت کے ایک ایسے پیغام کو عام کرتی جو زمین کے تمام حصوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک رشتے میں جوڑتا ہے ۔ تقسیم کے بعد شعرا نے سرحد اور اس سے جنم لینے والے مسائل کو کثرت سے برتا ہے ۔ یہاں ہم ایسی شاعری کا ایک انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
सरमदسَرْمَد
عربی
۲. مست ، مجذوب
सर्माسَرما
فارسی
سردی کا موسم، جاڑا، سردی
सर्माईسَرْمائی
موسم سرما کا لباس، جڑاول
सरहदسَرحَد
کسی کی انتہائی حد، انتہا، وہ علامت جو ایک ملک یا علاقے کو دوسرے علاقے یا ملک سے الگ کرے (کسی علاقے کا)، نیز آخری حصہ (کسی جگہ کا)
رباعیات سرمد
رباعی
حیات سرمد
ابوالکلام آزاد
سوانح حیات
رباعیات سرمد شہید
شاعری
کٹھ پتلیوں کا شہر
ڈرامہ
سرمد اور ان کی رباعیاں
مجیب اللہ ندوی
تاریخ جنگ عظیم یورپ
عظمت اللہ خان سرمد
عالمی تاریخ
تذکرۂ حضرت سرمد شہید
سید محمد احمد
نیلی کے سو رنگ
غزل
واردات سرمد
سرمد مظاہری
مجموعہ
جواہر منظوم ترجمۂ اردو رباعیات سرمد
ہر کوئی شامل ہوا سرمدؔ جلوس عام میںمنہ اٹھائے چل دیا ہے تو کدھر سب سے الگ
گوتمؔ نے آبرو دی اس معبد کہن کوسرمدؔ نے اس زمیں پر صدقے کیا وطن کو
اب کی سردی میں کہاں ہے وہ الاؤ سینہاب کی سردی میں مجھے خود کو جلانا ہوگا
دل مضطر مجھے اک بات بتا سکتا ہےتو کسی طور مجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے
حرف سرمد خون دارا کے علاوہ شہر میںکون ہے جو سر اٹھائے بادشاہت کے خلاف
اس کے ملنے پہ بھی محسوس ہوا ہے سرمدؔاس نے دیکھا ہی نہ ہو میں نے بلایا ہی نہ ہو
کتنا چالاک ہے وہ یار ستم گر دیکھواس نے تحفے میں گھڑی دی ہے مگر وقت نہیں
ہم نہ عیسیٰ نہ سرمد و منصورلوگ کیوں سوئے دار لے کے چلے
جب سطوت شاہی کو کچھ ٹھیس لگی ہوگیسولی پہ کئی سرمد لٹکائے گئے ہوں گے
ہنس دیا تھا سن کے وہ سرمدؔ بس اتنا یاد ہےبات اس کے سامنے لیکن ادا کیسے ہوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books