aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sharaf"
آغا حجو شرف
1812 - 1887
شاعر
شرف مجددی
شکیل ابن شرف
مصنف
خالد شریف
born.1947
صہبا لکھنوی
1919 - 2002
ہوش نعمانی رامپوری
born.1933
عمّان حسین
born.2002
نسیم حجازی
1914 - 1996
خواجہ شوق
born.1925
اننت شہرگ
born.1999
پروین شغف
born.1980
شریف منور
شریف کنجاہی
1914 - 2007
شرافت سمیر
شریف احمد قریشی
اور سنگ ریزے در نجف بن گئے تمامصحرا کو مل گیا شرف وادی السلام
جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فرازؔسوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کیکہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
بہت ہے لمحۂ موجود کا شرف بھی مجھےسو اپنے فن سے بقائے ابد نہیں مانگی
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیںڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
منتخب اشعار از ہزار داستان عشق - سنجیو صراف کا مرتبہ مترجمہ خوبصورت اردو اشعار کا مجموعہ سلیس انگریزی ترجمے کے ساتھ
शरफ़ شَرَف
عربی
بزرگی، بڑائی
भराई بھرائی
ہندی
کیلے کی ایک قسم
भरा بَھرا
پُر ، لبریز ، بھرا ہوا.
शराब شَراب
(اصلاً) پینے کی چیز، وہ خمیر کیا ہوا مشروب جس کے پینے سے انسان میں سرور اور نشہ پیدا ہوتا ہے، نشہ آور عرق جو بیشتر انگور، کھجور یا جَو وغیرہ سے کشید کیا جاتا ہے، بادہ، صہبا، گلابی، خمر، دارو
شرف الانساب
غوث محی الدین
محمد علی ارشد شرفی
تصوف
شرف سخن
نذیر احمد خان نیر
علم عروض / عروض
سیرۃ الشرف
شرف الدین یحییٰ منیری
سہروردیہ
دیوان شرف
دیوان
داستان شرف
امداد صابری
اسلامیات
آفتاب شرف
محمد ابو الشرف
قصیدہ
افسانہ لکھنؤ
مثنوی
شرف المناقب
حمید الدین
تذکرہ
ریاض الصالحین
ابو زکریا یحیی بن شرف النووی
فقیر الی اللہ
دلیپ شرما
مرتبہ
دیوان شرف مجددی
عبدالقادر مجددی
انتخاب
تجلیات شرف
محمد علی اعظم خاں قادری
یادگار
نواب شرافت الدولہ بہادر
مجموعہ
شکوہ فرنگ
پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراباس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
وہ سیر چشم ہوں میرے لیے ہے بے وقعتجمال حور و شراب طہور و شیر و عسل
اس پردے میں یہ حسن کا عالم ہے الٰہیبے پردہ وہ ہو جائیں تو کیا جانئے کیا ہو
شاخ گل جھوم کے گل زار میں سیدھی جو ہوئیپھر گیا آنکھ میں نقشہ تری انگڑائی کا
جس کو چھو کر سبھی اک طرف ہو گئےبات کی بات میں ذی شرف ہو گئے
عشق ہو جائے گا میری داستان عشق سےرات بھر جاگا کرو گے اس کہانی کے لئے
تیرے کردار کو اتنا تو شرف حاصل ہےتو نہیں تھا تو کہانی میں حقیقت کم تھی
نسبت کی یہ نسبت ہے شرف کا یہ شرف ہےتیرے ہیں اگر ہم ترے ٹھکرائے ہوئے ہیں
ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔمجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفرؔ کا غلام ہوںمانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
لکھا ہے جو تقدیر میں ہوگا وہی اے دلشرمندہ نہ کرنا مجھے تو دست دعا کا
بے وفا تم با وفا میں دیکھیے ہوتا ہے کیاغیظ میں آنے کو تم ہو مجھ کو پیار آنے کو ہے
میں بے بساط سا شاعر ہوں پر کرم تیراکہ با شرف ہوں قبا و کلاہ والوں سے
اے شرفؔ کون مرے دل کے مقابل ہوگااک یہی ساری خدائی میں ہے مردانۂ عشق
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books