aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taaro"
گنیش بہاری طرز
1932 - 2008
شاعر
طاہرہ جبین تارا
born.1979
تارا اقبال
تارا چند
1888 - 1973
مصنف
تارا چند رستوگی
ظہور تر شیزی دکھنی
تارا شنکر بندھوپادھیای
مسرز کلو مل تارا چند اگروال
تارا علی بیگ
تارہ چند
ادارہ تاج و حجاب، لاہور
ناشر
بھائی تارا چند چھبر، لاہور
تارا چرن رستوگی
1910 - 1997
تاری خان
born.1953
فن کار
1898 - 1971
ہے مری جرأت سے مشت خاک میں ذوق نمومیرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پو
عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھاجوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
شگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گی
یہ خوان تر و تازہ معری نے جو دیکھاکہنے لگا وہ صاحب غفران و لزومات
میں آس پاس کے موسم سے ہوں تر و تازہمیں اپنے جھنڈ سے نکلوں تو بے ثمر ہو جاؤں
तारो تارو
رک : تیرا، تمہارا
दरो درو
فارسی
doors, columns, pillars
मरो مَرو
(عور) دفع ہو جاؤ، چلے جاؤ (غصے کی حالت میں مستعمل)
यारो یارو
اے دوستو، اے محبو، اے ہم دمو، دوستوں کو مخاطب کرنے کا کلمہ (اُردو کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی اسم جمع منادی ہوتا ہے تو وہاں نون کو گرا دیتے ہیں)
تار و پود
بلونت سنگھ
افسانہ
شپی تارو
مسلم ضیائی
تروتازہ
اولاد رسول قدسی
شاعری
آتش تر
خمار بارہ بنکوی
غزل
صاحب طرز ظرافت نگار: مشتاق احمد یوسفی ایک مطالعہ
مظہر احمد
تحقیق و تنقید
اہل ہند کی مختصر تاریخ
ہندوستانی کلچر کا ارتقا: تاریخ کے آئینے میں
تار عنکبوت
الطاف فاطمہ
کہانیاں/ افسانے
جنگ آزادی 1857
ہندوستانی تاریخ
شام کا پہلا تارا
زہرا نگاہ
اک طرز تغافل
مشرف تمیز
ناول
طرز غالب
محمد عرفان
شاعری تنقید
عروض بہ طرز نو
محمود کاظم
علم عروض / عروض
قومی یکجہتی اور سیکولرازم
لیکچر
غنی کشمیری
ریاض احمد شیروانی
صدائے درد کی خاطر تمہیں کوثرؔ نے چھیڑا ہےشکستہ ساز کے بیدار تارو تم نہ سو جانا
اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگاکتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا
جھولتی ہے میرے دل میں ایک شاخ اس پیڑ کیوہ تر و تازہ ہے یا سوکھی ہوئی جیسی بھی ہے
سالک ہے کیوں تخیل ترک وجود میںنقش صور کا رنگ ہے تیرے شہود میں
ہجر کے دم سے سلامت ہے ترے وصل کی آستر و تازہ ہے خوشی غم کی توانائی سے
کرتی ہوں تر و تازہ ہری رت کے مناظرکاغذ پہ کبھی پیڑ کبھی پھول بنا کے
یہ رات تمہاری ہے چمکتے رہو تارووہ آئیں نہ آئیں مگر امید نہ ہارو
سمجھ یہ دار و رسن تار و سوزن اے منصورکہ چاک پردہ حقیقت کا ہیں رفو کرتے
ہم نے دیکھا ہے خزاں میں بھی تری آمد کے بعدکون سا گل تھا کہ گلشن میں تر و تازہ نہ تھا
سحر کے ڈوبتے تارو گواہ رہنا تمکہ میں نے آخری سانسوں تک انتظار کیا
تجھے میری خموشی سے بھی اندازہ نہیں ہوتاکہ میں اب صرف باتوں سے تر و تازہ نہیں ہوتا
کون سا وہ زخم دل تھا جو تر و تازہ نہ تھازندگی میں اتنے غم تھے جن کا اندازہ نہ تھا
او مسکراتے تارو او کھلکھلاتے پھولوکوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا
خواب عریاں تو اسی طرح تر و تازہ ہےہاں مری نیند کا ملبوس پرانا ہی سہی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books