aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tabiib"
طالب باغپتی
1903 - 1984
شاعر
حفیظ تائب
1931 - 2004
طالب دہلوی
1910 - 1975
مصنف
علامہ طالب جوہری
1929 - 2020
عشبہ تعبیر
born.1994
طالب حسین طالب
born.1980
افروز طالب
مرلی دھر شرما طالب
born.1977
طالب جے پوری
born.1911
خالد اقبال تائب
آشفتہ اورنگ آبادی
طالب علی خان عیشی
1783 - 1824/5
طالب شملوی
born.1928
طبیب آروی
حکیم محمد علی خان طبیب
اس رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں باربیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے
گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہےہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے
جاں بر بھی ہو گئے ہیں بہت مجھ سے نیم جاںکیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیباب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
तबीब طَبِیب
(کسی بھی) طریق علاج کا جاننے والا، ہرمرض یا عیب کا چارہ ساز، علم طب کا جانے والا، معالج، ڈاکٹر
عربی
ग़रीब غَرِیب
مسافر، پردیسی، اجنبی، بے وطن
हबीब حَبِیب
جس سے محبت کی جائے، محبوب، پیارا، معشوق، عاشق
तबीबी طَبِیبی
طبیب کا کام یا پیشہ، علاج معالجہ، ڈاکٹری
فارسی
گنجینہ طبیب
محمد اصغر علی
طب
چند مشہور طبیب اور سائنس داں
نامعلوم مصنف
شخصیت
تجربات طبیب
حکیم محمد سعید دہلوی
ہمہ دان طبیب
حکیم بھگت رام
اگرمیں طبیب ہوتا
میر ولی الدین
طبیب کی ڈائری
خالد جاوید شمسی
طب یونانی
شمارہ نمبر۔001,002
Jan, Feb 1942الطبیب، لاہور
طبیب الغربا
حکیم سید غلام حسین
شمارہ نمبر-006
حکیم محمد شریف
Jun 1940الطبیب، لاہور
شمارہ نمبر-012
Dec 1936الطبیب، لاہور
شمارہ نمبر-011
فضل الرحمٰن
Jul 1906طبیب حاذق
عبدالحمید طبیب نہیں، حکیم
اے۔ حبیب خاں
طبیب خلوت
بابو پیارے لال
طبیب نسوان
شمارہ نمبر-005
الطبیب، لاہور
علاج کیا کریں حکما تپ جدائی کاسوائے وصل کے اس کا کوئی طبیب نہ ہو
کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیبیاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے
ہیں سدا اس ادھیڑ بن میں طبیبکہ کوئی نسخہ ہاتھ آئے عجیب
طبیب نے کوئی تفصیل تو بتائی نہیںبہت جو پوچھا تو اتنا کہا اداسی ہے
طبیب عشق نے دیکھا مجھے تو فرمایاترا مرض ہے فقط آرزو کی بے نیشی
طبیب کہتا تھا پاگل کو کچھ بھی یاد نہیںگلے سے میں نے لگایا تو باپ رونے لگا
احوال کیا بیاں میں کروں ہائے اے طبیبہے درد اس جگہ کہ جہاں کا نہیں علاج
عشق ہے دار الشفا اور درد ہے اس کا طبیبجو نہیں اس مرض کا طالب سدا رنجور ہے
دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخرہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
دیکھ مجھے طبیب آج پوچھا جو حالت مزاجکہنے لگا کہ لا علاج بندہ ہوں میں خدا نہیں
جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضاحروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا
دانش مندی ہے وہ کرنا جو بھی کہے طبیبنسخے جیب میں رکھنے سے بیمار بدلتے نئیں
رکھتا نہ کیوں میں روح و بدن اس کے سامنےوہ یوں بھی تھا طبیب وہ یوں بھی طبیب تھا
طبیب عشق کی دکاں میں ڈھونڈتے پھرتےیہ دردمند محبت تری دوا کے لیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books