aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "talattuf"
مولوی تلطف حسین
مصنف
ادارۂ دبستان تصوف
ناشر
رحمانیہ تصوف اکیڈمی، حیدرآباد
ادارۂ فروغ تصوف، میرٹھ
ادارۂ تصوف، لاہور
دفتر سرمایہ تصوف لاہور
تصوف فاؤنڈیشن، لاہور
امید تلطف میں رنجیدہ رہے دونوںتو اور تری محفل میں اور مری تنہائی
ساقی کے تلطف نے عالم کو چھکایا ہےلبریز ہمارا ہی اک جام نہیں ہوتا
دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتاآرے سے اگر چیرے تو میں اف نہیں کرتا
سچ ہے کہ زہر عشق تلطف گریز تھاچنگاریوں نے ورنہ پکارا تو ہے ابھی
آئی نہ کبھو رسم تلطف تم کوکرتے نہ سنا ہم پہ تاسف تم کو
تصوف اوراس کے معاملات اردوشاعری کے اہم تریں موضوعات میں سے رہے ہیں ۔ عشق میں فنائیت کا تصوردراصل عشق حقیقی کا پیدا کردہ ہے ۔ ساتھ ہی زندگی کی عدم ثباتی ، انسانوں کے ساتھ رواداری اورمذہبی شدت پسندی کے مقابلے میں ایک بہت لچکداررویے نے شاعری کی اس جہت کو بہت ثروت مند بنایا ہے ۔ دیکھنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ تصوف کے مضامین کو شعرا نے کس فنی ہنرمندی اورتخلیقی احساس کے ساتھ خالص شعر کی شکل میں پیش کیا ہے ۔ جدید دورکی اس تاریکی میں اس انتخاب کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔
तलत्तुफ़ تَلَطُّف
۱. مہربانی ، عنایت ، توجہ
عربی
तलातुम تَلَاطُم
شدت سے موجوں کا اٹھنا اور آپس میں ٹکرانا، پانی کے تھپیڑے، طوفان
तक़त्तु' تَقَطُّع
(طب) وقفہ، وقت راحت، بخار کی دو نوبتوں کا درمیانی وقفہ
तनत्तु' تَنَطُّع
بال کی کھال نکالنا ، انتہائی غور و خوض کرنا ، تکلف اور غلو کرنا
گیارہ سوالات کے جوابات
قصدۂ عظمیٰ
منع تبرا
مخزن تصوف
عبدالرحمٰن حیا
سماع اور دیگر اصطلاحات
تصوف کی حقیقت اور اس کا فلسفہ تاریخ
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
تصوف
ولی دکنی
گوپی چند نارنگ
مقالات/مضامین
خواجہ میر درد
وحید اختر
نقشبندیہ
خلاصۂ تعلیم تصوف
خواجہ حسن نظامی
فلسفہ تصوف
آئینہ خود شناسی
منشی نجم الدین قادری
تصوف اور اردو کی صوفیانہ شاعری
مرزا صفدر علی بیگ
تحقیق / تنقید
خواجہ بندہ نواز کا تصوف اور سلوک
میر ولی الدین
چشتیہ
فرہنگ تصوف
صوفی وحید الحسن
لغات و فرہنگ
جلال الدین رومی اینڈ ہز تصوف
ہریندر چندر پول
ادب اور تصوف
حیات عامر حسینی
خم خانہ تصوف
ظہور الحسن شارب
تذکرہ
تلطف سیں پوچھے گا کب درد دلستمگر ہے سرکش ہے عیار ہے
اٹھاویں نازاں کے ہم نہ کیوں کر نظیرؔ دل سے کہ جن کے ہوویںجفا تلطف عتاب شفقت غضب توجہ ہتم نوازش
کیا حقیقت ہے تجھ تواضع کییو تلطف ہے یا مداوا ہے
آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسفاشفاق عنایات کرم مہر تلطف
تغافل ترک کر اے شوخ بے باکتلطف کر نوازش کر مدارا
احوال بہت تنگ ہے اے کاش محبتاب دست تلطف کو مرے سر سے اٹھا لے
تری نگاہ تلطف نے فیض عام کیاخرد کے شہر کے سب وحشیوں کوں رام کیا
دل عجب نسخۂ تصوف ہےہم نہ سمجھے بڑا تأسف ہے
سکوں نواز تلطف علاج ہے اس کاجنون عشق کو اک مرض لا دوا نہ کہو
وفا تھی مہر تھی اخلاص تھا تلطف تھاکبھو مزاج میں اس کے ہمیں تصرف تھا
دے جام تلطف سے ساقی بہ لب تشنہدل پیاس سے جب کملا پیمانہ ہوا تو کیا
اے دوست تلطف سیں مرے حال کوں آ دیکھسینے کی اگن مہر کے پانی سیں بجھا دیکھ
بس اے چشم تلطف بس کہ درد آشنا ہو کرمرے جذبات سے ناآشنا معلوم ہوتی ہے
عشق و جنوں سے جی تو تنگ آ گیا ہے کاش ابدست تلطف اپنے سر سے مرے اٹھا لیں
نہ کر توں بوالہوس اوپر تلطفترے دل کے تامل کی قسم ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books