aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tuumaar"
رضوان حیدر
born.1993
شاعر
پروانہ رودولوی
born.1933
مصنف
سید مثیم تمار پروانہ رودولوی
توما رابنسن قسیس
سید میثم تمار رودولوی
گھنشیام سنگھ تومر
تشار پرکاشن، پٹنہ
ناشر
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومار ناز ایساکہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
معمائے تکلف سر بمہر چشم پوشیدنگداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثالچشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ
کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یا ربجادہ ہے وا شدن پیچش طومار ہنوز
اسی کو ایک غنیمت قرار دوں گا ظفرؔجو ایک شعر بھی طومار سے نکل آیا
तूमार طُومار
طویل کہانی یا قصّہ (جو ناگوار ہو جائے) تحریروں یا بیانات کا بڑا مجموعہ
عربی
तूमार تُومار
بچّوں کے پڑھنے کے واسطے خطوط جمع کرکے ایک دوسرے سے چِپکا دیتے ہیں
खुमार کُھمار
رک: کمھار.
ख़ुमार خُمار
نشہ اترنے کے وقت درد سر اور ہاتھ پاؤں ٹوٹنے کی اور اعضا شکنی کی کیفیت، وہ مستی جو نشۂ شراب کا زرو ٹوٹنے کے بعد باقی رہ جاتا ہے
قصہ ذرا سے کام کو اتنا طومار
محمد احسان اللہ
داستان
شاہنامہ کربلا
رزمیہ
طومار اغلاط
سید عصمت اللہ
قصہ / داستان
کربلا کے بعد
کتاب المقدس وھوا کتاب العہد العتیق
تجار حیدرآباد
خواجہ حسن نظامی
تذکرہ
کربلا کی بہادر خواتین
اسلامیات
صبح نو
شمارہ نمبر-005
نا معلوم ایڈیٹر
سفیر التجار، دہلی
شمارہ نمبر-002
اپنی ہی بگاڑی ہوئی صورت کے علاوہکچھ اور نکالا نہیں طومار سے ہم نے
سوالوں کا طومار مبہم زباں میںمگر راز دل کا نہ اظہار کرنا
آنا ہو آؤ ورنہ یہ کہہ دو نہ آئیں گےسن لو یہ دو ہی باتیں ہیں طومار بھی نہیں
گر مہر نہ ہو داغ کے الفت کی گواہیمنظور مرے درد کا طومار نہ ہووے
شرح بے تابیٔ دل نیں ہے قلم کی طاقتتپش شوق کے طومار کوں کوئی کیا جانے
یہ کس انداز سے کہتے ہیں سن کر داستاں میریجہاں پوچھا کسی نے لے کے یہ طومار غم بیٹھے
جاویدؔ ہم ہیں اور ہے احساس کا خلوصیاروں کے پاس جھوٹ کے طومار دیکھنا
قصۂ درد کوں انجام نہیں مثل سراجؔغم کے دفتر کوں لپیٹ آہ کے طومار کوں کھول
واں سے یک حرف و حکایت بھی نہیں لایا کوئییاں سے طومار کے طومار چلا کرتے ہیں
جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولنا تھا بول چکابیان عشق کے طومار کوں میں کھول چکا
کچھ تو سچ بول کہ دل سے یہ گراں بوجھ ہٹےزندگی جھوٹ کا طومار ہوئی جاتی ہے
اس شوق نے دل کے بھی کیا بات بڑھائی تھیرقعہ اسے لکھتے تو طومار لکھا جاتا
شوق کا خط طومار ہوا تھا ہاتھ میں لے کر کھولا جبکہنے لگا کیا کرنے لکھے ہے اب تو نامہ سیاہ بہت
بے حد ہے علیمؔ عشق کے تعلیم کا طومارپایا نہیں کوئی عشق کے دریا کا کنارا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books