aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vailen"
دھرمیندر تجوری والے آزاد
born.1976
شاعر
ولید انور ولید
born.1975
سر مورٹیمر وھیلر
1890 - 1976
مصنف
ابوالولید محمد ابن رشد
ابو الولید ابن شحنہ
وارن ہسٹنگ
وزین معصوم
مدیر
نرملا وائلٹ دت
مسٹرسٹیفین وہیلر
محمد میاں محمد حسین پیٹی والے
مجلس علماء و واعظین، لکھنؤ
ناشر
ویلی بک ہاؤس، سرینگر
مطبع وکیل ہندوستان پریس
نتیجہ میں ولن ناشاد ہیرو شاد ہوتا ہےترقی پا کے بابو سیٹھ کا داماد ہوتا ہے
کالے پیرہن پہنے با وقار پیڑوں نے وائلن سنبھالے تھےجھومتے ہوئے پتے تالیاں بجاتے تھے
ساگانو کے سبز بانسوں سےوائلن کے تار بنائے جائیں گے جن پر
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباددیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
پیش ہے گاندھی جی کے کتابوں کا اردو ترجمہ
ربیندرناتھ ٹیگور پر کہی گئی چند بہترین اردو نظمیں
wailer wailer
ماتمی
مسالک السالکین فی تذکرۃ الواصلین
مرزا عبد الستار بیگ سہسرامی
قادریہ
خالد بن ولید سیف اللہ
محمد اکبر خان
تاریخ
کتاب الکلیات
وادی سندھ اور اس کے بعد کی تہذیبیں
تہذیبی وثقافتی تاریخ
مجلس خلوت
یوسف حسن
جنسیات
والڈن
ہنری ڈیوڈ تھورو
تذکرہ
خالد بن ولید
ندیم صہبائی فیروز پوری
تاریخ اسلام
نقوش جامعہ
غلام حیدر
ہندوستانی تاریخ
پھول والوں کی سیر
مرزا حیرت دہلوی
رپورتاژ
نافع المسلمین
اسلامیات
وکیل نسواں
مولوی سید افتخار عالم
حیات خالد بن ولید
عبدالمبین منطر
باتیں اللہ والوں کی
تنہا نظامی
سوانح حیات
فقیر کرم الٰہی صوفی
ویسے تو تمہیں نے مجھے برباد کیا ہےالزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا
امتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیں
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھےتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہتبچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
یہ کون ہے سر ساحل کہ ڈوبنے والےسمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں
قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہےہنسنے والے تجھے آنسو نظر آئیں کیسے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئےاور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیاجانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیںوہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائےایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا
ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسمتو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والےآج بے موت مریں گے مرے مرنے والے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books