aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "wasaaye"
درشکا وسانی
born.1986
شاعر
دھرمیندر تجوری والے آزاد
born.1976
وصاف باسط
born.1994
وسنت دتاتریہ گرجر
born.1944
عبدالواسع
مترجم
وسنت گوند دیشمکھ
مصنف
مرزا محمد ابن عبدالوہاب قازوینی
ڈی میکنزی والس
عبد الواسع ہانسوی
محمد میاں محمد حسین پیٹی والے
مولانا اللہ وسایا
ڈونالڈ ماكينزى والاس
الفریڈ رسل والس
مطبع واقع لکھنؤ، لکھنؤ
ناشر
ایکتا رنگ منچ، وسئی
وصال جاں فزا تو کیافراق جاں گسل کی بھی
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباددیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابیکوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں
دن گزارا تھا بڑی مشکل سےپھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
تیور تو معشوق ہی پر جچتے ہیں ۔ معشوق کا چہرہ تیوروں سے خالی ہو تو پھر وہ معشوق کا چہرہ ہی کہاں ہوا ۔ لیکن عاشق ان تیوروں کو کس طور پر محسوس کرتا ہے ۔ ان سے اس کے لئے کس طرح کی مشکلیں پیدا ہوتی ہیں ان سب باتوں کو جاننا ایک دلچسپ تجربہ ہوگا ۔ ہمارے چنے ہوئے ان شعروں کو پڑھئے ۔
वसायाوَصایا
عربی
وصیت کی جمع، وصیتیں نیز وصیت نامے، سفر کو جانے والے یا قریب الموت شخص کا نصیحت کرنا کہ میرے بعد ایسا ہونا چاہیے یعنی مرتے وقت یا سفر کو جاتے وقت کچھ سمجھانا، اخیر نصیحت کرنا
वसाया करनाوَصایا کَرنا
عربی, ہندی
وصیتیں کرنا
اردو زبان کے نئے تکنیکی وسائل اور امکانات
خواجہ محمد اکرام الدین
صحافت
اعمال نامۂ روس
تاریخ
بہار میں اردو سوانح نگاری کا آغاز و ارتقا
رپورتاژ
وقار انیس
میر انیس
مرثیہ
ورق سنگ
رام ریاض
وثائق فورٹ ولیم کالج
راجندر ناتھ شیدا
ڈائریکٹری
وثوق صراحت
مولوی محمد عبدالعلی
سوراج ہند
مہاتما گاندھی
ترجمہ
وصال صنم
الیاس سیتا پوری
وقائع عالمگیر
نبی احمد سندیلوی
سوانح حیات
وثائق یہودیت
ای مارسڈن
تیسری دنیا
الطاف گوہر
مضامین
مجموعہ وصایا امام اعظم
محمد عاشق الٰہی
اسلامیات
الافادات الوصیۃ
شیخ عبدالغنی
تصوف
امتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیں
کیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھےتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہتبچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
یہ کون ہے سر ساحل کہ ڈوبنے والےسمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں
قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہےہنسنے والے تجھے آنسو نظر آئیں کیسے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئےاور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیاجانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books