aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "wasaaye"
اٹل بہاری واجپائی
1924 - 2018
شاعر
درشکا وسانی
born.1986
وصاف باسط
born.1994
وسنت دتاتریہ گرجر
born.1944
نتیانند واجپائی اپمنیو
عبدالواسع
مترجم
وسنت گوند دیشمکھ
مصنف
مرزا محمد ابن عبدالوہاب قازوینی
ڈی میکنزی والس
عبد الواسع العمری
ڈاکٹر عبد الواسع
عبد الواسع ہانسوی
مولانا اللہ وسایا
الفریڈ رسل والس
ڈونالڈ ماكينزى والاس
وصال جاں فزا تو کیافراق جاں گسل کی بھی
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباددیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابیکوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں
دن گزارا تھا بڑی مشکل سےپھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
تیور تو معشوق ہی پر جچتے ہیں ۔ معشوق کا چہرہ تیوروں سے خالی ہو تو پھر وہ معشوق کا چہرہ ہی کہاں ہوا ۔ لیکن عاشق ان تیوروں کو کس طور پر محسوس کرتا ہے ۔ ان سے اس کے لئے کس طرح کی مشکلیں پیدا ہوتی ہیں ان سب باتوں کو جاننا ایک دلچسپ تجربہ ہوگا ۔ ہمارے چنے ہوئے ان شعروں کو پڑھئے ۔
साए سایے
سایہ (رک) کی جمع نیز مغیرہ حالت (تراکیب میں مُستعمل).
असासे اَثاثے
سرمایہ، پونجی، مال و دولت
عربی
wastage wastage
بَرْبادِی
मसाले مَسالے
مسالا کی جمع نیز مغیرہ حالت، تراکیب میں مستعمل
اردو زبان کے نئے تکنیکی وسائل اور امکانات
خواجہ محمد اکرام الدین
صحافت
اعمال نامۂ روس
تاریخ
بہار میں اردو سوانح نگاری کا آغاز و ارتقا
رپورتاژ
وثائق فورٹ ولیم کالج
راجندر ناتھ شیدا
ڈائریکٹری
وقار انیس
میر انیس
مرثیہ
ورق سنگ
رام ریاض
وثوق صراحت
مولوی محمد عبدالعلی
سوراج ہند
مہاتما گاندھی
ترجمہ
وصال صنم
الیاس سیتا پوری
مجموعہ وصایا امام اعظم
محمد عاشق الٰہی
اسلامیات
الافادات الوصیۃ
شیخ عبدالغنی
تصوف
وقائع عالمگیر
نبی احمد سندیلوی
سوانح حیات
وثائق یہودیت
ای مارسڈن
جنگ نہ ہونے دیں گے
نظم
امتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیں
کیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھےتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہتبچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
یہ کون ہے سر ساحل کہ ڈوبنے والےسمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں
قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہےہنسنے والے تجھے آنسو نظر آئیں کیسے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئےاور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیاجانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیںوہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسمتو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دلکسی کے وعدۂ فردا کی گفتگو ہی سہی
ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدااتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا
جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانیاسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books