تلاش کے نتائج

تلاش کا نتیجہ "افغانستان"

تمام

لغت سے متعلق نتائج

ریختہ لغت

afghanistan

अफ़्ग़ानिस्तानافغانستان

Afghanistan

काबुलियों का देश, काबुल का मुल्क, काबुल का राष्ट्र।।

تمام

کتاب کے متعلقہ نتیجہ "افغانستان"

افغانستان کے امور خارجہ

کبیر کوثر 

1980

مغرب اور افغانستان کی جانب سے ہندوستان پر حملے

 

1909

افغانستان : سچائی کیا ہے

 

1983

افغانستان-روسی دہشت گردی سے امریکی دہشت گردی تک

خان محمد عاطف 

2012

تاریخ افغانستان و سندھ

 

تاریخ

افغانستان کے واقعات سچائی کیا ہے ؟

غلام حیدر 

1980

افغانستان انقلاب کی پیش رفت

میخائیلی الینسکی 

1981

افغانستان جدید

ایم ۔ ایم فاضل میر منشی 

1922

افغانستان کی سفارتی تاریخ

کبیر کوثر 

انقلاب افغانستان

محمد حسین خان 

1931تاریخ

ترکی ایران افغانستان جاپان

نامعلوم مصنف 

1994

انقلاب افغانستان

محمد حسین خان 

1931

تاریخ بخاری

آرمینیس ویمبرے 

1959تاریخ

مزید نتائج "افغانستان"

مضمون

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں

’’قلعہ جنگی‘‘ میں افغانستان کو بیک ڈراپ بنایا گیا ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ افغانستان کی کہانی کہی جارہی ہے، یہ وہ افغانستان ہے جس کے مدرسوں کے طلبہ و اساتذہ نے اپنی مذہبی، فکری اور اخلاقی بنیادوں کے دفاع کے لیے میدانِ جنگ کا رُخ کیا تو ایسی دادِ شجاعت دی کہ دُنیا کی دوسری بڑی طاقت (روس) کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ ’’راکھ‘‘ ہی کی طرح اس ناول میں بھی واضح نشانات کے ساتھ زمانی دورانیے کا تعین تو نہیں کیا گیا ہے، لیکن جغرافیائی، سیاسی اور سماجی حوالے بتاتے ہیں کہ طالبان کے عروج و زوال کا زمانہ اس کہانی میں پیشِ نظر رکھا گیا ہے، یعنی وہ دور کہ جب وہ مجاہدین تھے اور ان کی ہر ممکن مدد دنیا کی ایک سپرپاور (امریکا) کی طرف سے جاری تھی۔ ڈالرز اور ہتھیاروں کی فراہمی تو جیسے طالبان رہ نماؤں کے اشارۂ ابرو پر ہورہی تھی۔ یہ طالبان کے عروج کا دور تھا۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ جب مدرسوں کے یہی نوجوان اور ان کے اساتذہ دہشت گرد اور انسانیت کے دشمن قرار پائے۔ پھر اسی امریکا نے اپنے حلیفوں کے تعاون سے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اس کے شہروں کو کھنڈر میں بدل دیا اور تہذیب و ثقافت کا ملیا میٹ ہوا۔ یہ دورِ زوال تھا۔ مستنصر حسین تارڑ نے اس ناول میں تہذیبی سطح پر تو ان مسائل کو نہیں دیکھا ہے۔ البتہ اخلاقی، سماجی اور معاشی صورتِ حال کے پس منظر میں افغانستان کے اس تاریخی المیے کو فوکس کیا گیا ہے جو عصری تناظر میں اُس کی ثقافتی پامالی اور انسانی زندگی کی درماندگی و بے توقیری کا نقشہ ابھارتا ہے۔
’’ڈاکیا اور جولاہا‘‘ بڑے سماجی اسکوپ، وسیع زمانی تناظر یا عمیق تہذیبی مسائل کا ناول نہیں ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ’’بہاؤ‘‘ اور ’’راکھ‘‘ کے تقابل میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ ناول خاصا ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اس کی ایک جہت ایسی ہے کہ جو ہم سے توجہ کا تقاضا کرتی ہے اور وہ ہے دیہی زندگی کا منظرنامہ، جس میں ڈاکیا، جولاہا، دینے تیلی، نورے ماچھی اور نتالیہ جیسے کرداروں کے ذریعے ایسے تجربات کو گرفت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو معاصر فکشن میں اب تو نایاب ہی کے درجے میں آتے ہیں۔ ناول کا بیانیہ بھی اُس کے کرداروں اور اُن کی صورتِ حال کی طرح سادہ نظر آتا ہے، لیکن جب ذرا غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سادہ کاری کا یہ پورا تناظر اپنی سطح کے سیاق میں جس معنویت کا ابلاغ کرتا ہے، ناول نگار نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ان کرداروں اور ان حالات کی معنویت کا ایک اور رُخ اس وقت سامنے آتا ہے جب انھیں علامتوں کے طور پر دیکھا جائے۔ چناں چہ یہ کردار اور ان کی صورتِ حال کی دبازت کا احساس ہوتا ہے اور معنویت کی ایک اور سطح ہمارے سامنے آتی ہے۔ اس مرحلے پر شہری زندگی پر غلبہ پاتی مادّیت اور دیہی زندگی میں نمایاں نظر آنے والے غیر مادّی عناصر پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یوں کہانی میں اسلوب، کردارو اور ماجرے میں سادہ کاری کا مفہوم واضح ہوتا ہے اور مولانا روم کی تعلیمات سے کہانی میں اخذ و استفادے کی نوعیت اور معنویت قابلِ فہم ہوجاتی ہے۔

مبین مرزا
مضمون

فکشن نگار کی تنہائی

بیسویں صدی کے آواخر اور اکیسویں صدی کی شروعات میں قومی سیاست اور سماجی زندگی میں بہت ساری تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہوئی ہے جس میں اب ایران اور برما بھی شریک ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں جاری جنگ میں لاکھوں معصوم لوگوں کا خون بہہ چکا ہے۔ امریکی فارین پالیسی ناکام ہو چکی ہے اورمسلمانوں میں امریکہ کے خلاف نفرت حد درجہ بڑھ گئی ہے۔ ان تمام تبدیلیوں اور کرب ناک حالات نے کیا ہمیں یہ سوچنے پر مجبور نہیں کیا ہے کہ اس سیاسی اور سماجی پس منظر میں ادب اورادیب کا رول کیا ہو سکتا ہے؟ کیا ہے؟
میں بطورِ فکشن رائٹر ان سوالات سے نبرد آزما ہوں کہ ان حالات میں ادب کی ضرورت کیا ہے؟ میں کس کے لیے لکھتا ہوں؟ کن افراد کے بارے میں لکھتا ہوں؟ کیا میں بھی شمس الرحمن فاروقی اور قاضی عبدالستار کی طرح تاریخ کے تذکروں میں پناہ لے کر اپنے عہد سے چشم پوشی نہیں کرسکتا؟ ایسے افسانے لکھنے پر قناعت نہ کروں جن کو رسائل میں شائع کرنا آسان ہوتا ہے۔ دو افسانے فسادات پر ، ایک قومی یگانگت پر، ایک خانگی رشتوں میں درآئی دراڑ پر ، ایک جنسی نا آسودگی پر۔ ۔ یہ سارا کھیل ’پیکٹ پروڈکٹ افسانے ‘ہوتے ہیں۔ جس کا کاروبار بیشتر اردو افسانہ نگار کررہے ہیں۔ جن میں نہ انفرادیت ہے، نہ آرٹ ہے، نہ تجربے کا حسن ہے۔

رحمٰن عبّاس
افسانہ

محاسن

پہلا واقعہ یہ تھا کہ اس کے والد کے دوست بہار الدین جن کا تعلق افغانستان کے غلزئی قبیلے کے تھا۔ وہاں وہ غدر مچنے کی وجہ سے اپنے دو بھائیوں کے ساتھ پشاور آگئے تھے۔ پشاور میں روڈ کنسٹرکشن کی ٹھیکیداری کا بڑا کاروبار تھا ۔ ان کی اکلوتی اولاد ، ایک بیٹی بس فروزاں ہی تھی ، محاسن کی ہم عمر ۔ وہ اپنی اہلیہ اور فروزاں کے ساتھ کراچی آئے ۔وہ جمیل سیٹھ کے ہاں قیام پذیر تھے۔ جمیل سیٹھ اور بہار الدین، دونوں دوستوں کا خیال تھا کہ چھٹیوں پر آیا ہوا محاسن کا چھوٹا بھائی دلید اس حسن خوابیدہ فروزاں کو دیکھ لے تو دونوں کی بات پکی ہوجائے ۔ ولید کو اس منصوبے سے دور امریکہ میں اپنی ہم مکتب نیپال کی رشمی پانڈے کچھ ایسی من بھائی کہ کم از کم شادی کے معاملہ میں اس نے ڈیورینڈ لائن ( افغانستان اور پاکستان کی 2,640 کلومیٹر سرحد جسے باقاعدہ طور پر سن 1893 میں افغان امیر عبد الرحٗمن اور برطانوی راج نے تشکیل دیا) کراس کرنے کا کوئی خیال ظاہر نہ کیا ۔
فروازں کی آمد کے تیسرے دن ہی وہ رشمی پانڈے کے والدین سے بات پکی کرنے کٹھمنڈو چل پڑا ۔اس کی روانگی کے دو دن بعد احمد علی ایک دن سندھ کے شہر نواب شاہ کے سفر پر کسی سے ملنے جانے کے لیے اپنی اہلیہ کے ساتھ نکلے۔ راستے میں کار کو حادثہ پیش آیا جس میں ڈرائیور اور وہ دونوں میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔

اقبال دیوان
مضمون

ادب میں انسان دوستی کا تصور

لیکن یہاں تاریخی اعتبار سے ادب میں انسان دوستی کے تصور پر گفتگو سے پہلے ہمارے اپنے عہد کے سیاق میں انسان دوستی کے مضمرات پر کچھ معروضات پیش کرنا ضروری ہے۔ہمارے دور میں بد قسمتی سے انسان دوستی نے ایک نعرے کی حیثیت بھی اختیار کرلی ہے۔اقوام متحدہ کی عمارت کے باب داخلہ پر شیخ سعدی کا یہ مصرعہ کہ’’بنی آدم اعضائے یکِ دیگر اند‘‘اسے رویے کا پتا دیتا ہے ۔اس کے علاوہ اپنے مقبول عام مفہوم اور مسلّمہ اوصاف کے باوجود انسان دوستی ہمارے زمانے میں خسارے کا سودا بھی بن چکی ہے۔اور نوآبادیاتی(کولونیل) مقاصد میں یقین رکھنے والوں یا نسل پرستانہ عزائم اختیار کرنے والوں نے انسان دوستی کے تصور کو ایک سیاسی حربے،ایک آلہ کار کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔عراق، افغانستان اور فلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
اصل میں تاریخ کی ایک اپنی مابعد الطبیعیات بھی ہوتی ہے اور مختلف ادوار یا انسانی صورت حال کے مختلف دائروں میں معروف اصطلاحات کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔انسان دوستی کے تصور کی بھی کئی سطحیں ہیں،مذہبی ،سماجی، سیاسی۔ادب میں انسان دوستی کا تصور ان میں سے کسی بھی سطح کا تابع نہیں ہوسکتا۔سیاسی،سماجی،مذہبی نظام کے تحت انسان دوستی کا تصور کسی نہ کسی مرحلے میں ایک طرح کی براہ راست یا بالواسطہ مصلحت کا شکار بھی ہوسکتا ہے جہاں اسے وہ آزادی، وہ کھلا پن ہر گز میسر نہ آسکے گا جس تک رسائی صرف ادب کے واسطے سے ممکن ہو سکتی ہے۔اسی طرح کولونیل عہد کی انسان دوستی اور پوسٹ کولونیل عہد کی انسان دوستی کا خمیر بھی یکساں نہیں ہوسکتا۔ادب اور آرٹ کی دنیا میں انسان دوستی کی روایت بہرحال کچھ سیکولر قدروں کی ترجمان ہوتی ہے۔ادب ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی روحانی طلب صرف مرئی ،ٹھوس اور مادّی چیزوں تک محدود نہیں ہوتی۔ادب ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان ایسی چیزیں سمجھنا چاہتا ہے جو بہ ظاہر کام کی نہیں ہوتیں اور جن سے روز مرہ زندگی میں ہماری کسی ضرورت کی تکمیل ممکن نہیں،مثلاََ فلسفہ اور نفسیات ۔اور انسان اظہار کی ایسی ہیئتیں بھی وضع کرنا چاہتا ہے ،ایسی ’’چیزیں‘‘بنانا چاہتا ہے کو مبہم ،مرموز اور منطق سے ماوارہوتی ہیں ،مثلاََ ادب اور آرٹ۔بجائے خود ادب ایک طرح کا باطنی اور روحانی تشدد بھی ہے جو بہ قول ویلیس اسٹیونس (Wallaes Stevenes)خارجی دنیا میں واقع ہونے والے تشدد سے مزاحم ہوتا ہے اور ہمیں اس کی گرفت سے بچائے رکھتا ہے۔کامیو کے ایک سوانح نگار نے اسے انسان دوستی یا انسانی (ہمدردی) کے جذبوں کی سیاست سے تعبیر کیا ہے اور اس سلسلے میں کامیو کی ان تقریروں کا حوالہ دیا ہے جن میں کامیو نے ۱۹۵۷ء کے دوران اس واقعے پر بار بار زور دیا تھا کہ ہمارا عہد انقلابی قدروں کے انحطاط اور ابتذال کا عہد ہے۔لیکن یہ انحطاط و ابتذال انقلابی قدروں کے بازیابی میں ہمارے یقین کو کمزور نہیں کرسکتا اور ہم ان اقدار سے بے نیازی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔اپنے سوانح نگار فلپ تھوڈی(Philip Thody)کی اطلاع کے مطابق اس وقت کامیو کی تمام ذہنی سرگرمیوں کا نقطئہ ارتکازاس کا انسان دوستی کا تصور تھا اور انسانی المیوں اور اذیتوں کا شدید احساس۔اس وقت کامیو نے کسی سیاسی تحریک میں شمولیت کے بغیر ادبی اور ادب کے انسانی سروکاروں پر جس طرح زور دیا تھا اس سے ایک سیاسی جہت بھی خود بخود نمودار ہوجاتی ہیں۔کامیوں کی انسانی ہمدردیاں اور ترجیحات اس وقت بالکل واضح تھیں اور ان سے اس کے موقف کی صاف نشاندہی ہوتی تھی۔کامیو ہر طرح کی نظریاتی اور فکری مطلقیت کا مخالف تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ مطلقیت یا منصوبہ بند اور متعین مقاصد جن انسانی آلام کو آسان کرنے کے مدعی ہیں ان میں کوئی بھی انسانی الم بجائے خود مطلقیت سے بڑا اور اس سے زیادہ مہلک نہیں ہے۔یعنی کے ضابطہ بند عقیدے (مذہب)،نظریے(آئیڈیالوجی)،علوم(سائنس)کی روشنی میں مرتب کیا جانے والا انسان دوستی کا کوئی بھی تصور کامیو کے تصور سے مناسبت نہیں رکھتا اور ان میں سے کوئی بھی اس پر پیچ اور کشادہ انسانی احساس اور اس لازوال تجربے کی احاطہ بندی کا اہل نہیں ہے جس کی نمود ادب اور آرٹ کی زمین پر ہوتی ہے،اسی طرح جیسے آرٹ اور ادب کی خاموش سرگرمی سے پیدا ہونے والا اخلاق،رسمی اور روایتی اخلاق سے مختلف ہوتا ہے،بہ قول شخصے ادب بجائے خود اخلاق سے زیادہ با اخلاق شے ہے یا یہ کہ (More moral than morality itself)۔فراق نے کہا تھا:

شمیم حنفی
مضمون

پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال

ستر کی دہائی کے عین آغاز میں ہم دولخت ہو گئے تھے۔ انتظار حسین، مسعود مفتی اور مسعود اشعر کے علاوہ وہ تخلیق کارجو براہ راست اس سانحے سے گزرے۔ وہ وہیں بس گئے یا وہ جو یہاں آگئے تھے، لکھنے بیٹھے تو لہورُلا گئے۔ غلام محمد ، محمود واجد ، امِّ عمارہ ، شہزاد منظر‘نور الہدیٰ سید، علی حیدر ملک، احمد زین الدین، شاہد کامرانی اور شام بارکپوری کے لکھے ہوئے افسانے اس قومی سانحے کی سچی تصویر بناتے ہیں ۔ میں جب بھی اس قومی سانحے کی بابت سوچتا ہوں تو مجھے ریاض مجید کی غزلوں کا مجموعہ ’ڈوبتے بدن کا ہاتھ ‘‘ یا د آجاتا ہے۔
ضیا الحق والے اسلامی مارشل لا کہ جسے امریکی حمایت نے گیارہ سال تک پھیلا دیا تھا ،بھٹو کی پھانسی ، افغانستان میں امریکی مفادات کے تحفظ کو جہاد قرار دینا ، روس کا ٹوٹنااور ہماری تہذیبی حمیت کا پارہ پارہ ہونا ایسے سانحات کو لیے ہوئے تھا جو اس زمانے کے ادب کا مزاج بدلتے رہے ۔پہلے امریکی جہاد اور پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک حربے کے طور پر استعمال کی جانے لگی تو عالمی سامراج کو ہم نوا بھی مل گئے ۔ یہی وہ فکری انارکی کا زمانہ ہے کہ ملکوں ملکوں دہشت گردی پھیلانے اور دہشت زدہ کرکے عالمی وسائل پر قبضہ کرنے کی مہم چلی اور سوچنے سمجھنے والے چکرا کر رہ گئے۔

محمد حمید شاہد