aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",oc2B"
آہٹ عقب سے آئی اور آگے نکل گئیجو پہلے دیکھنا تھا وہ اب دیکھتا ہوں میں
عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سےجو گر گئی تو یوں ہی نیم جان چھوڑ گیا
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقابیہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
ذرا سی کرگسوں کو آب و دانہ کی جو شہہ ملیعقاب سے خطاب کی ادا ہی اور ہو گئی
پھر وہی خواب وہی ضد نہیں عاقب صابرؔہم اصولوں سے بغاوت نہیں کرنے والے
مرا وجود شمار نفس میں آیا نئیںتمام عمر میں سانسوں کے بس میں آیا نئیں
نفس نفس زندگی کے ہو کر اجل کی تشہیر کر رہے ہیںیہ کس جتن میں لگے ہیں ہم سب کسے جہانگیر کر رہے ہیں
مجھے معلوم ہے اک چور دروازہ عقب میں ہےمگر اس بار میں رستہ مقابل سے نکالوں گا
عشق میں اشک جو بہاتے ہوآگ پانی کو تم ملاتے ہو
ہم جو گزرے ہوئے لمحوں کی طرف دیکھتے ہیںایسا لگتا ہے کہ صدیوں کی طرف دیکھتے ہیں
اڑتا ہوا عقاب تو آنکھوں میں قید ہےاب دیکھیے عقاب کے آگے کچھ اور ہے
حملہ آور کوئی عقب سے ہےیہ تعاقب میں کون کب سے ہے
میری خواہش قبول کر لیجےعشق کرنے کی بھول کر لیجے
ہر قدم کوئی درندہ کوئی خونخوار عقابشہر کی گود میں آباد ہیں جنگل کتنے
زمیں آواز دیتی ہے محبت سے مجھے عاقبؔتو میرا چاند چھونے کا ارادہ ٹوٹ جاتا ہے
اس کی شادی ہے غیر سے عاقبؔاس کو گھر سے اٹھا کے لانا ہے
کچھ ایسی بات کبوتر کی آنکھ میں دیکھیعقاب خوف کے مارے اڑان بھول گیا
اس پہ سب کچھ لٹا دیا عاقبؔجو مرا قدردان تھا ہی نہیں
وہ دعوے اچھے دن کے کرکے عاقبؔہمیں پاگل بنانا چاہتا ہے
جواب سوچ کے مجھ کو جواب دے دینازباں سے کہہ نہ سکو تو گلاب دے دینا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books