تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "Dhelaa"
غزل کے متعلقہ نتیجہ "Dhelaa"
غزل
جہاں چاہے لگے جس دل کو چاہے چور کر ڈالے
زباں سے پھینک مارا بات تھی ناصح کہ ڈھیلا تھا
شاد عظیم آبادی
غزل
ادھر وہ تھے کہ تھی اک دولت بیدار پاس ان کے
ادھر ہم تھے کہ اپنی جیب میں پیسہ نہ ڈھیلا تھا
حمید جالندھری
غزل
اسے ہم دل نہیں مٹی کا اک ڈھیلا سمجھتے ہیں
کہ جب تک رنج و غم سہنے کے وہ قابل نہ بن جائے
بوم میرٹھی
غزل
نہ ہے فریاد ہونٹوں پر نہ آنکھوں میں کوئی آنسو
زمانے سے ملا جو غم اسے گیتوں میں ڈھالا ہے
شاعر صدیقی
غزل
کبھی رنگ بنا کبھی نور ہوا گہے خاموشی گہے شور ہوا
ہر روپ میں ڈھالا ہے خود کو ترا روپ بہم کرنے کے لیے