aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aaseb"
میرے اندر تھی ایسی تاریکیآ کے آسیب ڈر گئے مجھ میں
یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کاسوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا
خوف ہی خوف جاگتے سوتےکوئی آسیب اس مکان میں ہے
نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہےکہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا
میرا دل بھی کسی آسیب زدہ گھر کی طرحخودبخود کھلنے لگے خود ہی مقفل ہو جائے
چیختا کھنڈر ہے روتی ہے حویلی دل کیگھر یہ آسیب زدہ ہے ترے جانے کے بعد
چار سو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاں
آسیب چشم قہر پری طلعتاں نہیںاے انس اک نظر کہ میں انساں نہیں رہا
چمک زر کی اسے آخر مکان خاک میں لائیبنایا سانپ نے جسموں میں گھر آہستہ آہستہ
اجڑے ہوئے مکان میں کل شب ترا خیالآسیب بن کے مجھ سے لپٹتا چلا گیا
قحط جذبوں کا پڑا ویراں سے ہیں دل کے نگرشہر پر آسیب شاید ہجر کے منڈلا گئے
مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیںگماں گزرتا ہے یہ دشت میرا گھر تو نہیں
ٹھیک کہتے ہو کہ آسیب زدہ ہوتا ہے عشقمیرے اندر بھی کوئی شور مچا جاتا ہے
کیسا آسیب ہے کہ ہر جانبجشن جذبات ہے خموشی ہے
ہم آسیب کے ڈر سے گھر کیوں بدل لیںپرندوں پہ جچتا ہے شاخیں بدلنا
سوختگاں کی بزم سخن میں صدر نشیں آسیبچیخوں کے صد غزلوں پر سناٹوں کی تحسین
رہ شہادت پہ سر کے ہم راہ اک آسیب چل رہا ہےہمیں نہ نکلیں یزید دوراں کہ خود کو شبیر کر رہے ہیں
آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیںآسیب خموشی کے صباؔ چیخ پڑے ہیں
کوئی آسیب ہے اس حسیں شہر پرشام روشن ہے لیکن سہانی نہیں
میں کہ اک آسیب اک بے چپن روحبے وضو ہاتھوں کا دفنایا ہوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books