aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ansaar"
شجر ہیں اب ثمر آثار میرےچلے آتے ہیں دعویدار میرے
یہ جو میرے اندر پھیلی خاموشی ہےتم کیا جانو کتنی گہری خاموشی ہے
وصل کو خود پہ اوڑھ کے انصرؔہجر کی داستاں لکھی میں نے
اب بھی موجود ہے وہ بیعت فاسق کا سوالاور مطلوب ہے وہ جرأت انکار اب بھی
انصار کے خنجر پہ مہاجر کا لہو ہےتاریخ نے ایسا کبھی منظر نہیں دیکھا
یہ بد قماش جو اہل عطا بنے ہوئے ہیںبشر تو بن نہیں سکتے خدا بنے ہوئے ہیں
اور بھی ہیں بہت حسیں انصرؔدل خوش فہم کس گمان میں ہے
جو ہم خود کو مہاجر مان بھی لیںتو کس کی حیثیت انصار سی ہے
اس تکلم کی ادا پر کوئی کیا بات کرےہونٹ چپ ہوں تو ترا رنگ حنا بات کرے
مری آنکھوں سے اشکوں کے بجائے ریت گرتی ہےمگر اندر کہیں بھی ریت کا دریا نہیں ملتا
آپ انصرؔ کو جانتے ہی نہیںیہ تو یاروں کا یار ہے صاحب
وہ متحد ہیں درس مساوات کے بغیرہم درس لے کے بٹ گئے انصار و خان میں
ملال یہ ہے مسائل کا حل بناتے ہوئےگنوا کے بیٹھ گئے آج کل بناتے ہوئے
ہر ایک چہرۂ پروانۂ وفا کو پڑھاچراغ خیمۂ انصار کو بجھاتے ہوئے
گر سوچئے مہاجر و انصار کی طرحجذبہ نہیں ہے جذبۂ ایثار کی طرح
لو حق کے لیے اپنی جڑیں چھوڑ دیں ہم نےاب گھر سے نکل کر کوئی انصار بھی آئے
انصرؔ کچھ اس طرح سے لپکتی ہیں آندھیاںجیسے کوئی خزانہ چھپا ہے چراغ میں
لہو کا ہنر آزماتے رہیں گےچراغ آندھیوں میں جلاتے رہیں گے
ہجرتوں کے سلسلے باقی ہیں دنیا میں ابھیلیکن اب ڈھونڈے سے بھی ملتے نہیں انصار دیکھ
ہمارے پاس آئے شوق سے انصارؔ وہ لیکنمحبت کی کوئی رت پیار کا موسم نہیں ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books