تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "bache"
غزل کے متعلقہ نتیجہ "bache"
غزل
نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا
فیض احمد فیض
غزل
جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم
ہنس کے بولے تمہیں جینا تھا تو مر کیوں نہ گئے
مضطر خیرآبادی
غزل
کچھ نہیں کھلتا کس کی زد میں یہ ہستیٔ گریزاں ہے
ہم جو اتنے بچے پھرتے ہیں کن تیروں کے نشانے ہیں
فراق گورکھپوری
غزل
بچے کس طرح سے مریض غم نہ تم آ سکو نہ بلا سکو
یہی حالتیں ہیں تو دیکھنا کوئی دم میں قصہ تمام ہے