aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bahuur"
گرفت فن سے نہ آزاد ہو سکا شادابؔخیال تازہ کرشمہ بحور کا نکلا
بحور حضرت غالبؔ سے لے کے آئے ہیںخیال میر تقی میرؔ سے بندھا ہوا ہے
غرق ہو کر بھی بحور عشق سےجب میں ابھری تو ابھرتی ہی گئی
حروف کے حصار سے فقط نہیں غزل کا دمجو فکر ہی نہیں رہی بحور کیا ردیف کیا
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیںسو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہتخود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیںتم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہےتمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھےتو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلےچلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہےیہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو
بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھارات بہت ہی یاد آئے ہو
کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضاخود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھےتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہتبچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھےبہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا
بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اس کی خیر خبرچلو فرازؔ کو اے یار چل کے دیکھتے ہیں
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھوزندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books