تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "dera"
غزل کے متعلقہ نتیجہ "dera"
غزل
سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں
محبتوں کی حکایتیں اب یہاں سے ڈیرا اٹھا چکی ہیں
عزیز نبیل
غزل
جب چاروں اور اندھیرا تھا سچ کم تھا جھوٹ گھنیرا تھا
دریا سے بڑے اک شخص کا اک دریا کے کنارے ڈیرا تھا
سعید احمد اختر
غزل
مری دھڑکن میں جن بے تابیوں نے ڈیرا ڈالا ہے
انہی بے تابیوں کی انتہا سے چوٹ لگتی ہے