aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "elaan-e-faiz-e-aam"
دکھاوے کے لئے اعلان فیض عام ہوتا ہےمگر اک خاص ہی حلقہ میں دور جام ہوتا ہے
حسن کو آخر خیال فیض عام آ ہی گیاآج کوئی خود بخود بالائے بام آ ہی گیا
کہیں ساقی کا فیض عام بھی ہےکسی شیشے پہ میرا نام بھی ہے
ہے فیض عام پر سائل کہاں ہےلہو گرنے کو ہے قاتل کہاں ہے
پیغام لطف خاص سنانا بسنت کادریائے فیض عام بہانا بسنت کا
یار تو قتل عام کر ڈالےتیغ باندھے کہاں کمر ہی نہیں
فیض عہد جدید تنہائیسہہ رہا ہوں شدید تنہائی
یہ بات سچ ہے یہاں گفتگو عوام سے ہےمگر ادب کو گزر گاہ عام مت کرنا
دیکھا گیا نہ مجھ سے معانی کا قتل عامچپ چاپ میں ہی لفظوں کے لشکر سے کٹ گیا
جنس وفا کا دہر میں بازار گر گیاجب عشق فیض حسن کا حامل نہیں رہا
مثال گوہر نایاب زیر آب رہایہ آرزو تھی سمندر اچھالتا مجھ کو
آپ کے شکوۂ بے جا کا گلہ کیا کرناآپ نے اپنی محبت تو کبھی دی ہوتی
سرکشی کے نصیب میں پتھربندگی فیض عام تک پہنچی
کمال فن ہے قتل عام اس کاوہ شیشہ گر ہے آہن گر نہیں ہے
اختر شعریؔ کے در جیساشہر میں فیض عام نہیں ہے
راز کہاں تک راز رہے گا منظر عام پہ آئے گاجی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گا
نگاہوں کی فسوں کاری بہت ہےیہ فیض عام پھر جاری بہت ہے
اے دل والو گھر سے نکلو دیتا دعوت عام ہے چاندشہروں شہروں قریوں قریوں وحشت کا پیغام ہے چاند
کشتگان یاس کو اے فیضؔ پیغام حیاتبربط دل پر بہ طرز نو غزل گاتا ہوں میں
ساقی یہ بھی ہے تیرا فیض عامپیتے ہیں مے جو آب کے مانند
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books