aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fair"
آشنا بحر محبت کے شناور ہیں سبتو بھی اس آگ کے دریا کو اگر پیر تو ہے
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیںجو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔمت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
نہیں دنیا کو جب پروا ہماریتو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریںپھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماںیاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سےجب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہوسامنے پھر وہ بے نقاب آئے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناںپھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر رہ گزررستہ کبھی روکا ترا دامن کبھی تھاما ترا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سےپھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرووقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کیاس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books